جمعرات, اگست 20, 2026
اشتہار

ذاتی رہائش: حکومتی اسکیم کے تحت قرض کا حصول، مشکلات کیا ہیں؟

اشتہار

حیرت انگیز

روٹی اور کپڑے کے بعد رہنے کے لیے ایک محفوظ جگہ انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے۔ ہر انسان اپنے اور اپنے کنبے کا پیٹ بھرنے اور جسم ڈھانپنے کے بعد جس چیز کو زندگی کے لیے اہم گردانتا ہے، وہ مکان ہی ہے۔ دنیا بھر میں مناسب اور بہتر رہائش اب ایک چیلنج بنتی جارہی ہے۔ دنیا کے امیر ترین ملک امریکا کے شہر نیویارک میں رہائش ایک ایسا گمبھیر مسئلہ بن چکا ہے کہ ظہران ممدانی نے مناسب رہائش کے بیانیے پر ہی حکمران جماعت کے مقابلے میں کام یابی حاصل کی ہے۔ امریکا ہی نہیں برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور دیگر ملکوں کے بڑے اور تجارتی حیثیت کے حامل شہروں میں بھی رہائش کے مسائل بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

پاکستان کی بات کریں تو یہاں شہروں کے ساتھ ساتھ دیہات میں بھی رہائش کے مسائل سامنے آرہے ہیں۔ پرانے اور خستہ حال مکانات یا وہ عمارتیں جن کی بنیادیں‌ کمزور ہوجاتی ہیں، ان کے رہائشیوں کے لیے جانی اور مالی نقصانات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور ایسے حادثات ہوتے رہے ہیں۔

عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد مکانات کی کمی ہے اور یہ قلت سالانہ بنیاد پر 3.5 لاکھ گھروں کی شکل میں بڑھتی جارہی ہے۔ یہ کمی شہری علاقوں میں 40 فیصد سے 47 فیصد تک ہے۔ پختہ مکانات کی کمی کی وجہ سے شہروں میں کچی آبادیاں تیزی سے ابھر رہی ہیں۔ کراچی جیسے شہر کا اس وقت 60 فیصد کچی آبادیوں اورغیر منظم بستیوں پر مشتمل ہے۔ جہاں بنیادی بسنے والوں کو شہری سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ ذاتی رہائش یا مکان کی قلت کے باعث شہری کرائے کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ یہ لوگ سال ہا سال کرایہ ادا کرتے ہیں مگر ذاتی گھر کے مالک نہیں بن پاتے۔

پاکستان میں ہر حکومت نے رہائش کی اس قلت پر قابو پانے کے لئے اقدامات کیے ہیں۔ مگر انہیں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ سب سے بڑی رہائشی اسکیم 1999ء میں پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے نام سے شروع کی گئی جو حکومت کی تبدیلی کی وجہ سے ادھوری رہ گئی۔ پیپلز پارٹی، نون لیگ اور پاکستان تحریک انصاف کی تمام حکومتوں نے عوام کو مناسب اور کم لاگت کے گھروں کی فراہمی کے لیے اسکیمیں متعارف کرائیں مگر حکومتوں کی ترجیحات تبدیل ہونے یا حکومت کا خاتمہ ہونے کی وجہ سے یہ اسکیمیں دیرپا نتائج نہ دے سکیں۔

کسی بھی شہری کے لیے مکان کے حصول کے لیے سب سے اہم ہے مالی معاونت کی فراہمی۔ اس وقت ملک میں مکان کی تعمیر کے لئے قرض کی شرح بہت ہی کم ہے۔ بینکوں اور مالیاتی اداروں نے 293 ارب روپے کا قرض 65 ہزار افراد کو گھروں کی خریداری یا تعمیر کے لئے جاری کیا ہوا ہے۔

موجودہ حکومت نے بھی عوام کو ذاتی مکان کا مالک بننے کے لیے قرض دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اس اسکیم کے تحت ملک کے کمرشل، اسلامی اور مائیکرو فنانس بینک سے گھر کی تعمیر یا خریداری کے لئے رقم حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس قرض پر سود یا شرح منافع چھے فیصد مقرر کی گئی ہے۔ جب کہ باقی رقم حکومت بطور سبسڈی فراہم کرے گی۔ گھر کے لئے قرض پر رعایت پہلے دس سال کے لئے ہو گی جب کہ باقی مدت میں کائیبور سے منسلک منافع لیا جائے گا۔

حکومت پاکستان نے رواں مالی سال کے بجٹ میں سستے گھروں کی اسکیم کے لئے سبسڈی کے طور پر 71 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ حکومت کی درخواست پر اسٹیٹ بینک نے اس قرض اسکیم میں ذاتی سرمایہ کاری 10 فیصد اور قرض کی رقم 90 فیصد رکھنے کی منظوری دی ہے۔ جب کہ عام قرض کے لیے یہ شرح 15 فیصد ذاتی سرمایہ اور 85 فیصد قرض ہوتا ہے۔

اس قرض کے لئے درخواست دہندہ کا پاکستان کا شہری ہونا شرط ہے۔ قرض لینے والے کے پاس شہریت کے ثبوت کے طور پر قومی شناختی کارڈ ہونا چاہیے۔ اس اسکیم کی اہم بات یہ ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی شہری بھی پاکستان اوریجن کارڈ یا شہریت کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر رعایتی قرض اسکیم کے اہل ہوں گے۔ اس کے علاوہ جو بھی درخواست گزار ہیں ان نام پر اس سے قبل کوئی جائیداد رجسٹر نہ ہو۔

اسکیم میں اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہے کہ اس سے امیر افراد فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اس لئے رہائشی یونٹ جس کے لئے قرض لیا جارہا ہو اس کے سائز کی ایک حد مقرر کر دی گئی ہے۔ گھر یا پلاٹ 10 مرلہ یا 2720 مربع فٹ سے زائد نہ ہو ج بکہ فلیٹ کی صورت میں کورڈ ایریا 1500 مربع فٹ مقرر کیا گیا ہے۔

اسکیم میں قرض کی زیادہ سے زیادہ حد ایک کروڑ روپے ہے، مگر اسکیم کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اس سے کم آمدنی والے شہری بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ درخواست گزار کو آمدنی کے ثبوت کے طور پر ایک وسیع البنیاد دستاویزات کی سہولت دی گئی ہے۔ ملازمت پیشہ افراد کو اپنی تین ماہ کی سیلری سلپ، ملازمت کا لیٹر، اور ایک سال کا بینک کھاتہ فراہم کرنا ہوگا۔ جب کہ کاروباری افراد کو اپنے کاروبار کے ثبوت کے طور پر ٹیکس رجسٹریشن نمبر، ٹیکس کی دستاویزات اور ایک سال کی بینک اسٹیٹمنٹ دینا ہوگی۔

اگر کسی فرد کی ماہانہ آمدن اس معیار پر پورا نہ اتر رہی ہو جو قرض لینے کے لئے لازمی ہے تو اس کے بہن بھائی، ماں باپ، بیوی بچوں، کی آمدن کو جمع کر کے اسے قرض کا اہل بنایا جاسکتا ہے۔

حکومت کی وزارت ہاؤسنگ نے ایک آن لائن پورٹل بنایا ہے جس کی مدد سے قرض کے لئے درخواست دی جاسکتی ہے۔ مگر عوام کی جانب سے شکایات موصول ہورہی ہیں کہ پورٹل درست طریقے سے کام نہیں کررہا ہے اور اس کی مدد سے درخواست جمع کرانا ایک چیلنج بن گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک بریفنگ میں اسٹیٹ بینک کے حکام نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ ان کے آن لائن پورٹل پر اس وقت کچھ مسائل ہیں۔ لوگوں کی شکایات دور کرنے کے لئے پورٹل کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے اور آئندہ پندرہ سے بیس دن میں پورٹل پر درخواست دینے کا عمل آسان ہونے کے ساتھ ساتھ تیز رفتار ہوجائے گا۔

درخواست کے جمع ہونے کے بعد کاغذات کی تصدیق کا عمل شروع ہوتا ہے جس میں درخواست دہندہ کی کریڈٹ ہسٹری کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ تصدیقی عمل مکمل ہونے پر درخواست کی منظوری یا اس کے مسترد کئے جانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ قرض کی یہ اسکیم حکومت پاکستان کی ضمانت کے ساتھ جاری کی گئی ہے۔ اس لئے اس اسکیم میں بینکوں کی جانب سے رکاوٹیں بھی نہیں ہیں۔ پاکستان کا ہر شہری خواہ اس کا تعلق کسی شہر، قصبے، گاؤں یا کچی آبادی سے ہو، اسے قرض لینے کا حق حاصل ہے۔ کسی بھی فرد کو اس کے پیشے یا ملازمت کی بنیاد پر بینک قرض دینے سے انکار نہیں کرسکیں گے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ سالانہ تین لاکھ افراد کو قرض جاری کرنا اس کا ہدف ہے۔ اس وقت بینکوں کو ایک لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ جس میں 13 ہزار درخواستیں منظور ہوچکی ہیں۔ اور چھ ہزار افراد نے 26 ارب روپے تک کا قرض حاصل بھی کرلیا ہے۔ اس طرح قرض کی اوسط رقم 48 لاکھ روپے بن رہی ہے۔

اس اسکیم کے تحت قرض کی منظوری کے ساتھ لوگوں کو رہائشی یونٹ کی دست یابی کے مسئلے کا سامنا بھی ہے۔ درخواست دہندہ اگر تعمیر شدہ مکان خریدنا چاہتا ہے، تو ایسا گھر تلاش کرے جس کے موجودہ مالک کے پاس تمام ملکیتی اور قانونی دستاویز اور تعمیراتی اجازت نامے موجود ہوں۔ اس شرط یا قانونی طریقۂ کار کی وجہ سے مکان خریدنے کے خواہش مندوں کی ایک بڑی تعداد کو مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری طرف نئے رہائشی پراجیکٹس اور سوسائٹیوں میں بلڈروں نے موقع کا فائدہ اٹھا کر رہائشی یونٹس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا ہے اور قرض کی منظوری کے باوجود لوگ اپنی خواہش اور جیب کے مطابق مناسب رہائش حاصل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔

اس اسکیم کے حقیقی ثمرات عوام کو منتقل کرنے کے لئے اب صوبائی حکومتوں کو اور ضلعی سطح پر بھی ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن کے ذریعے عوام کو سستی زمین کے ساتھ ساتھ تعمیر کے لئے نقشوں کی منظوری اور دیگر اجازت نامے بلا رکاوٹ اور بر وقت مل سکیں۔

اہم ترین

راجہ کامران
راجہ کامران
راجہ کامران سینئر صحافی ہیں۔ کونسل آف اکنامک اینڈ انرجی جرنلسٹس (CEEJ) کے صدر ہیں۔ ان کا ٹوئٹر ہینڈل rajajournalist@ ہے۔

مزید خبریں