The news is by your side.

Advertisement

خطرناک قرار دی جانے والی عمارت میں سرکاری اسکول

کراچی: سانحہ گلبہار سے بھی متعلقہ اداروں کو ہوش نہ آیا، مخدوش اور خطرناک قرار دی گئی عمارت میں تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مخدوش عمارتوں سے شہریوں کے تحفظ کے اقدامات نظر انداز کر دیے گئے، خطرناک قرار دی گئی عمارت میں تعلیمی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں، عمارت کو خطرناک قرار دینے کے 4 سال بعد بھی مسمار نہیں کیا گیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ناظم آباد ایک نمبر میں واقع قدیم رہایشی عمارت میں سرکاری اسکول قائم ہے، گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول کے طلبہ، اساتذہ اور دیگر اسٹاف کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے، ایس بی سی اے اور محکمہ تعلیم سندھ نے حفاظتی اقدامات نظر انداز کر دیے۔

اسکول کی چھت اور دیواریں بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں

کراچی میں گرنے والی عمارت کا بلڈر پنجاب سے گرفتار

یاد رہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے عمارت خالی کر کے فوری مسمار کرنے کا حتمی نوٹس جاری کیا تھا، یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ عمارت کسی بھی وقت گر سکتی ہے، تاہم عمارت خطرناک قرار دینے کے باوجود اداروں کی غفلت کی وجہ سے اسکول کی شفٹنگ نظر انداز کی گئی ہے۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے 2016 میں جاری نوٹس کا عکس

خیال رہے کہ کراچی کے علاقے رضویہ سوسائٹی میں واقع گلبہار نمبر 2 پھول والی گلی میں جمعرات کے روز رہائشی عمارت اچانک منہدم ہو گئی تھی جس کے نیچے دب کر 27 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ پولیس نے ایس بی سی اے کے تین افسران کو گرفتار کر لیا ہے، عمارت کے مفرور بلڈر جاوید کو بھی گزشتہ روز پنجاب سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اسکول کے ہیڈماسٹرز کی تعیناتی کا بورڈ
fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں