The news is by your side.

Advertisement

لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا حکومتی دعویٰ، بھانڈا پھوٹ گیا

کراچی: حکومت کی جانب سے لوڈشیڈںگ ختم کرنے کے دعوے کا بھانڈا پھوٹ گیا، مختلف علاقوں میں دو سے سولہ گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے نے لوڈشیڈنگ خاتمے کے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول دی، حکومت نے زیادہ تر علاقوں میں زیرو لوڈ شیڈنگ کا اعلان کیا تھا تاہم اب بھی مختلف علاقوں میں دو سے سولہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

بی بی سی کو ملنے والی سرکاری دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک بھر میں تین سو ایک فیڈرز اب بھی ایسے ہیں جہاں روزانہ بارہ سے سولہ گھنٹے بجلی کی فراہمی معطل رہتی ہے۔

ایک ہزار پانچ سو اکتالیس فیڈرز پر دو سے چھ جبکہ آٹھ سو فیڈرز پر آٹھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے، اس کے مطابق چالیس فیصد شہری اب بھی لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیلنے میں مصروف ہیں۔

حکومت کا موقف ہے کہ جن فیڈرز پر بجلی کی چوری دس فیصد سے کم ہوگی، وہاں بجلی نہیں جائے گی اور سرکاری دستاویزات کے مطابق ملک میں بجلی سپلائی کرنے والے 8600 فیڈرز میں سے اس وقت 5297 فیڈرز پر لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کارپوریشن یعنی آئیسکو کے 710 فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ نہیں ہورہی، خیبرپختونخوا کے پورے صوبے کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی پشاور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن صرف 309 فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ نہیں ہورہی ہے۔

اندرون سندھ میں میرپورخاص، حیدرآباد، تھرپارکر سمیت بیشتر زیریں سندھ کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کارپوریشن حیسکو کے صرف 204 فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ نہیں ہورہی۔

بلوچستان کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے صرف 61 فیڈرز کو لوڈشیڈنگ فری قرار دیا گیا ہے، سب سے کم لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ فیڈر سیپکو کے ہیں جس کے صرف 24 فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی، سیپکو، سکھر، لاڑکانہ، شکارپور، گھوٹکی، نوشہروفیروز اور جیکب آباد کے علاقوں میں بجلی فراہم کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: اعلان کے باوجود صنعتی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ، صنعت کار پریشان

کراچی کے بیشتر علاقوں میں بھی دو سے تین گھنٹے تین ٹائم لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے جبکہ شہری اوور بلنگ پر کے الیکٹرک سے نالاں نظر آتے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں