site
stats
اہم ترین

گورنر و وزیرداخلہ کی جسٹس سجاد سے ملاقات، اویس شاہ کی بازیابی کی یقین دہانی

کراچی: گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے وفاقی وزیر داخلہ نے ون ٹو ون ملاقات کی اور صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، شہر میں جاری آپریشن اور دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا،دونوں ذمہ داران نے جسٹس سجاد علی شاہ سے  بھی ملاقات کی اور انہیں اویس شاہ کی بازیابی کی یقین دہانی کرائی بعدازاں انہوں نے امجد صابری کے گھر جا کر اہل خانہ سے ملاقات کی اور قاتلوں کو جلد گرفتار کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

دونوں نے آپریشن کو آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رکھنے اور اسے ہر حال میں منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم کیا۔گورنر سندھ نے وفاقی وزیر داخلہ کو دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز، اغوا برائے تاوان کے مجرموں اور بھتہ خوری کے خلاف جاری آپریشن سے آگاہ کیا۔ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کراچی میں امن و امان کی بہتر صورتحال پورے ملک کی معاشی ترقی و خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔

جسٹس سجاد علی شاہ سے ملاقات، اویس شاہ کی بازیابی کی یقین دہانی

ملاقات کے بعد گورنر اور وزیر داخلہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سجاد علی شاہ کی رہائش گاہ پہنچے جہاں ان سے ملاقات کی۔ گورنر اور وزیر داخلہ نے اویس شاہ کے اغوا پر ہمدری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اویس شاہ کی بازیابی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی۔

چوہدری نثار نے چیف جسٹس کو یقین دلایا کہ جلد اویس شاہ کو بازیاب کرالیا جائے گا اس حوالے سے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔

امجد صابری کے اہل خانہ سے تعزیت، قاتلوں کو جلد گرفتار کرلیں گے، وزیرداخلہ،گورنر

ملاقات کے بعد گورنر اور وزیر داخلہ چوہدری نثار تعزیت کےلیے امجد صابری کی رہائش گاہ پہنچے جہاں انھوں نے اہل خانہ سے ملاقات کی اور امجد صابری کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی۔

اس موقع پر گورنر سندھ اور وفاقی وزیر داخلہ نے امجد صابری کے اہل خانہ کو یقین دلایا کہ امجد صابری کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور جو دہشت گرد قتل میں ملوث ہوئے ان کو گرفتارکیا جائے گا۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے تیزی سے تفتیش کو آگے بڑھا رہے ہیں قاتل کسی صورت نہیں بچیں گے۔ گورنر سندھ نے کہا کہ امجد صابری کا قتل انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top