The news is by your side.

مسائل کے حل کے فریم ورک پر ہونے والی پیش رفت کو توسیع دی جائے، گورنر اسٹیٹ بینک

کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک اشرف محمود وتھرا نے علاقائی مشاورتی گروپ ایشیا (آر سی جی ایشیا) کے متعلق اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ آر سی جی میں اب تک مسائل کے حل کے فریم ورک اور مالی حفاظتی نیٹ ورک پر ہونے والی پیش رفت میں بھی توسیع ہونی چاہیے۔

انہوں نے یہ بات ہانگ کانگ مانیٹری اتھارٹی کے نارمن ٹی ایل چن کے ساتھ مالی استحکام بورڈ و علاقائی مشاورتی گروپ برائے ایشیا (ایف ایس بی۔ آر سی جی ایشیا)کے نویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کرتے ہوئے کہا کہ  ان اقدامات سے رکن ممالک کو مفید نظریات کے تبادلے کا موقع ملے گا تا کہ انہیں مسائل کا بہتر ادراک ہو سکے۔

واضح رہے کہ جولائی 2015ء میں گورنر وتھرا کوہانگ کانگ مانیٹری اتھارٹی کے نارمن ٹی ایل چن کے ساتھ دو سال کی مدت کے لیے مالی استحکام بورڈ و علاقائی مشاورتی گروپ برائے ایشیا (ایف ایس بی۔ آر سی جی ایشیا) کا مشترکہ صدر مقرر کیا گیا تھا۔

ایف ایس بی کے قیام کا مقصد بین الاقوامی سطح پر قومی مالی حکام اور معیار کا تعین کرنے والے عالمی اداروں کے درمیان اشتراک اور مالی استحکام کے لیے مؤثر ضابطہ کاری، نگرانی اور مالی شعبے کی دیگر پالیسیوں کی تیاری اور انہیں فروغ دینا ہے۔

رکن ممالک کے علاوہ ایف ایس بی کو اپنے چھ علاقائی مشاورتی گروپس (آر سی جیز) کے ذریعے مزید تقریباً 65 علاقوں تک رسائی حاصل ہے۔ 2011ء میں قیام کے بعد سے آر سی جی ایشیا میں 16 ممالک کے مرکزی بینک اور مالی حکام شامل ہیں۔

اجلاسوں کے دوران آر سی جی ایشیا کے ارکان نے کمزورپہلوؤں اور مالی استحکام سے تعلق رکھنے والے امور پر بحث کی جن میں مالی اور علاقائی پیش رفت کے معاملات بھی شامل تھے۔ نیز، مارکیٹ کی بنیاد پر مالکاری اور اثاثوں کے انتظام کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ منسلک خطرات پر بھی گفتگو کی گئی۔

ارکان نے بعض خطّوں میں، اور مخصوص اقسام کے کلائنٹس کے لیے بڑے بین الاقوامی بینکوں کی جانب سے کریسپانڈنٹ بینکاری کو ممکنہ طور پر کم کرنے پر بھی سوچ بچار کی۔ مزید برآں، ارکان نے تھوک بازار کے منصفانہ اور مؤثر طریقوں پر بھی غور کیا جس میں گفتگو کا محور معینہ آمدنی، کرنسی اور اجناس کی منڈیوں کے طریقوں میں آنے والے نقائص تھے۔

اجلاس کے آخر میں ایک سیشن عالمی مالی بحران کے نتیجے میں بننے والے امانتوں کے بیمہ نظام (ڈی آئی ایس) میں ردّوبدل پر ہوا۔ اس بحران کی وجہ سے دائرۂ اختیار میں طریقوں میں پہلے سے زیادہ ارتکاز پیدا ہوا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں