مرکزی بینک اندرونی آڈٹ کے کردار میں اضافے کے لیے پرعزم ہے، گورنر اسٹیٹ بینک -
The news is by your side.

Advertisement

مرکزی بینک اندرونی آڈٹ کے کردار میں اضافے کے لیے پرعزم ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

کراچی: بینک دولت پاکستان کے گورنر اشرف محمود وتھرا نے کہا ہے کہ مرکزی بینک اپنے اندرونی آڈٹ کومضبوط بنانے کے لیے کام کررہا ہے تاکہ بین الاقوامی آڈیٹنگ معیارات اور بہترین طور طریقوں کے مطابق اس کا آزادانہ کردار ہو۔

انہوں نے یہ بات نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس (نباف) اسلام آباد میں 16 نومبر 2015ء کو سارک فنانس کے زیر اہتمام ’’مرکزی بینکوں میں اندرونی آڈٹ: طریقے اور روایات‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والے تین روزہ سارک فنانس سیمینار کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

سیمینار میں سارک مرکزی بینکوں کے اندرونی آڈٹ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے مندوبین نے شرکت کی۔ سیمینار سے بین الاقوامی اور مقامی مقررین نے خطاب کیا اور اپنے قیمتی تجربات اور معلومات کا تبادلہ کیا۔

سارک رکن ممالک کے مندوبین اور سیمینار کے مقررین کا خیرمقدم کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک اشرف محمود وتھرا نے سامعین کو آگاہ کیا کہ سیمینار کے انعقاد کا مقصد اندرونی آڈٹ کے طریقوں، معیارات، نظاموں، تازہ ترین پیش رفت کی معلومات اور سارک کے پورے خطے کے مرکزی بینکوں کو اندرونی آڈٹ کے فرائض کی انجام دہی میں درپیش مشکلات پر تبادلہ خیال کرنا ہے، ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ عالمی مالی بحران کے بعد اندرونی آڈٹ کا کردار اہم ہوگیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطرے پر مبنی آڈٹ کا طریقہ کار متعارف کرانے اور گورننس ، انتظام خطر اور کنٹرولز سے متعلق فریم ورک کی ترقی سے اندرونی آڈٹ کا کردار ارتقا پا رہا ہے اور مرکزی بینکوں میں یہی عمل ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے بے حد خوشی ہے کہ میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے یہ اقدام کر رہا ہوں اور پر امید ہوں کہ سیمینار کے انعقاد سے شرکاء کے پیشہ ورانہ تجربے میں خاصا اضافہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے اپنے اندرونی آڈٹ کے فریضے کی ادائیگی کے لیے درست صلاحیت اور مہارت کے حصول پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ان کے مطابق آڈٹ کے مطلوبہ آلات کی فراہمی اور اعلیٰ سطح پر درست رویہ اختیار کرنا مرکزی بینک میں اندرونی آڈٹ کے کردار کو تقویت دینے کے لیے ضروری تھا۔

انہوں نے مرکزی بینک کے کچھ حالیہ اقدامات سے بھی آگاہ کیا جن میں فریضے سے متعلق معلومات میں مزید اضافے کے لیے آڈیٹرز کو موضوع سے متعلق مرتکز تربیت کی فراہمی، آڈٹ کے طریقہ کار کو عملدرآمد کے بجائے خطرے پر مبنی آڈیٹنگ پر منتقل کرنا تا کہ بلند خطرے کے حامل کاروباری شعبوں کو ہدف بنا یا جا سکے اورماہرین کا پول برقرار رکھتے ہوئے اندرونی آڈٹ کی صلاحیت سازی شامل ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں