The news is by your side.

Advertisement

مارکیٹوں کو کھولنے کے لئے حکمت عملی سے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنا ہوگی، گورنر سندھ

کراچی : گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا ہے مجھے نہیں لگتا کہ لاک ڈاؤن ہفتہ10دن میں ختم ہوجائے گا، مارکیٹوں کو کھولنے کے لئے حکمت عملی سے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنا ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق گورنرسندھ عمران اسماعیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا احساس پروگرام سے ایک کروڑ 20لاکھ خاندان استفادہ کریں گے، جن میں 34 لاکھ خاندان سندھ سےتعلق رکھتے ہیں، عمران خان نےمشکل گھڑی میں خطیر رقم دیہاڑی دار اور مزدوروں کو دی ، اندرون سندھ سے شکایات ملیں، امداد دینے کے لیے کہیں کہیں500مانگےجارہےہیں۔

گورنرسندھ کا کہنا تھا کہ کوروناسےمتعلق آر ڈیننس میرے پاس اب تک نہیں آیا، جب آئے گا تو مناسب طریقے سے فیصلہ کروں گا، غیر رسمی میرے پاس مسودہ آیا ہے اگر وہ ٹھیک ہے تویہ مناسب نہیں ، صوبائی حکومت وفاق کو حکم نہیں دے سکتی۔

عمران اسماعیل نے کہا کہ اس مسودےمیں نجی سیکٹرز پر زور ہے، جب مسودہ آئے گا تو اس حساب سے تبصرہ کروں گا ، وفاق اور کے الیکٹرک نے فیصلہ کر لیا ،اوسط بلنگ نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ پنجاب میں زیادہ ہوئے اس لئے کیس زیادہ ہیں ، بار بار شکایت آرہی ہےوفاق سندھ سےتعاون نہیں کر رہا، میں نے چیئرمین این ڈی ایم اے سےبات کی ہے انہوں نے فہرست بھیجی ، میں وہ فہرست حکومت سندھ کے سامنے رکھوں گا اورپو چھوں گا ، وفاق نےجتنی مدد صوبہ سندھ کی کی کسی اور صوبہ کی نہیں کی۔

گورنرسندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کو میری کوئی مدد چاہئے تو میں حاضر ہوں ، صوبہ سندھ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا ، شیری رحمان کی تصحیح کرنا چاہتا ہوں ،50 ہزار کٹس دے چکے ہیں ، صوبہ سندھ پیسے خرچ کرے تو چین سے سامان منگوا سکتا ہے ، کیچڑ اچھالنے کے بجائے معاملات حل کرنے ہوں گے۔

عمران اسماعیل نے 14 اپریل کےبعد لاک ڈاؤن میں توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے کہا مزید لاک ڈاؤن کےمتحمل نہیں ہوسکتے، لاک ڈاؤن ضرور ہونا چاہیے ،سندھ حکومت کےاقدام کی حمایت کی، سمجھتاہوں14اپریل کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی ہوگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ 100 فیصد مستحقین تک راشن کی فراہمی ممکن نہیں، احساس اور بی آئی ایس پی پروگرامز وفاق کے ہیں، احساس پروگرام کی رقم سے کٹوتی  بالکل برداشت نہیں کی جائےگی، جس علاقےسےشکایت آئی تووہاں کا ڈی سی معطل کرایاجائے گا۔

گورنرسندھ کا کہنا تھا کہ کراچی میں پورے ملک سےلوگ روزگار کے لئےآتےہیں اور چھوٹےکمروں میں 8سے10لوگ رہتےہیں، مجھے نہیں لگتا کہ لاک ڈاؤن ہفتہ 10دن میں ختم ہوجائےگا۔

عمران اسماعیل نے مزید کہا کہ گورنرہاؤس سے40ہزارمیں سے20ہزارراشن تقسیم ہوچکاہے، ہر گھر تک کھانا پہنچانا مشکل ٹاسک ہے، لاک ڈاؤن ضروری تھا مگران حالات میں ایسا آگے چلنا مشکل لگتا ہے، آگے حکمت عملی بنا کر لاک ڈاؤن کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام میں بےضابطگیوں پر3دن میں 17ایف آئی آرکاٹی ہیں، جہاں بےضابطگی ہوئی توڈی سی کے خلاف ایف آئی آرکٹواکرمعطل کراؤں گا، حکومت کو ضرورت ہوگی تو ایم کیوایم کےوزیربھی لیں گے اورمشیربھی۔

گورنرسندھ نے کہا کہا کراچی میں چھوٹے چھوٹے گھروں میں لوگ رہتے ہیں ،غذا کی کمی ہوئی تو بھی یہ بیماری لگ سکتی ہے، مارکیٹوں کو کھولنے کے لئے حکمت عملی سے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنا ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں