The news is by your side.

Advertisement

گورنر سندھ کے انتقال کو ایک برس بیت گیا

کراچی: سندھ کے اکتسویں گورنر جسٹس سعید الزماں صدیقی کے انتقال کو ایک برس گزر گیا، وہ گزشتہ برس 11 جنوری 2017 کو طویل علالت کے بعد حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کرگئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس سعید الزماں صدیقی نے گورنر سندھ کے عہدے کا حلف 11 نومبر 2016 کو اٹھایا تاہم طبیعت کی ناسازی کے باعث وہ زیادہ متحرک کردار ادا نہیں کرسکے تھے۔

سعید الزماں صدیقی کو ایک ماہ اسپتال میں داخل رہنے کے بعد گھر منتقل کیا گیا تھا مگر 11 جنوری کو اُن کے سینے میں درد اٹھا اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوا تو انہیں کلفٹن میں واقع نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔

اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد ڈاکٹرز نے سابق گورنر کو بچانے کی سر توڑ کوشش کیں مگر وہ جانبر نہ ہوسکے، اُن کو سرکاری اعزاز کے ساتھ رخصت کیا گیا اور تدفین کراچی کے علاقے گزری قبرستان میں ہوئی۔

سعید الزماں صدیقی کا نماز جنازہ مفتی تقی عثمانی نے پولو گراؤنڈ میں پڑھایا

جسٹس سعید الزماں صدیقی 1 دسمبر 1938ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے،انہوں نے ابتدائی تعلیم لکھنئو سے حاصل کی،سال 1954ء میں انہوں نے جامعہ ڈھاکا سے انجنیرنگ میں گریجویشن کیا، جامعہ کراچی سے انہوں نے 1958ء میں وکالت کی تعلیم حاصل کی۔

آپ 5 نومبر 1990ء سے21 نومبر 1992ء تک چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے عہدے پرفائض ہوئے اور اپنے امور بخوبی سرانجام دیے بعد ازاں یکم جولائی 1999ء کو پاکستان کے 15 ویں چیف جسٹس مقرر ہوئے جس کی مدت 26 جنوری 2000ء کو ختم ہوئی۔

انہوں نے سال 2008 میں سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر صدارتی انتخاب بھی لڑا جس میں آپ کو شکست کا سامنا رہا، آپ نے مشرف دور میں پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا جس کی پاداش میں نوکری سے برطرف کرتے ہوئے آپ کو اہل خانہ سمیت نظر بند کیا گیا۔

واضح رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی کو 9 نومبر کو عشرت العباد کی معزولی کے بعد گورنر کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا، عشرت العباد کو  طویل عرصے تک پاکستان کے پہلے اور ایشیا کےدوسرے گورنر رہنے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔

موجودہ گورنر سندھ محمد زبیر نے جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کی پہلی برسی پر اُن کے اہل خانہ سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ سعیدالزمان صدیقی کی بحیثیت جج اور گورنر  خدمات  یادرکھی جائیں گی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں