The news is by your side.

Advertisement

سندھ میں وزیر داخلہ کی تقرری کو لازمی سمجھتا ہوں، گورنر سندھ

کراچی: گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل ہورہا ہے، سندھ میں وزیر داخلہ کی تقرری کو لازمی سمجھتا ہوں۔

تفصیلات کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کراچی میں فائرنگ سے ہلاکتوں پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا تقی عثمانی پہلے بھی سیکیورٹی خدشات کا اظہار کرچکے ہیں، ڈرائیور، اہلکارنے زخمی ہونے کے باوجود بہادری دکھائی۔

انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ سید کلیم امام اور ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید بہترین کام کررہے ہیں، صوبائی حکومت اپنے معاملات بہتر جانتی ہے، سندھ حکومت کو اختیار ہیں مگر آئی جی سندھ کو بھی اختیار ملنا چاہئے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ جب تک آئی جی سندھ کے پاس اختیارات نہیں ہوں گے وہ اپنا کام درست نہیں کرپائیں گے، پی ایس ایل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ پر بھارت اور کچھ نادیدہ قوتیں خوش نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی میں فائرنگ ، مفتی تقی عثمانی قاتلانہ حملےمیں محفوظ رہے

واضح رہے کہ نماز جمعہ سے قبل کراچی میں فائرنگ کے دو واقعات پیش آئے تھے نیپا چورنگی کے قریب مولانا تقی عثمانی کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں دو سیکیورٹی گارڈز جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ مولانا تقی عثمانی حملے میں محفوظ رہے تھے۔

فائرنگ کا دوسرا واقعہ شاہراہ فیصل نرسری کے قریب پیش آیا تھا جہاں دارالعلوم کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں 2 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

مفتی تقی عثمانی اپنی اہلیہ اور دو پوتوں کے ہمراہ گلشن اقبال میں واقع مسجد بیت المکرم میں نماز جمعہ کا خطبہ دینےکے لیے جارہے تھے کہ یہ سانحہ رونما ہوا۔ سانحے میں مفتی شہاب کے بیٹے مولانا عامر شہاب اللہ شدید زخمی ہوئے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں