کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا نئے کرنسی ڈیزائن کے نوٹ عید پر دستیاب ہونے کے حوالے سے اہم بیان آگیا۔
تفصیلات کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے کرنسی ڈیزائن کے نوٹ عید پر دستیاب نہیں ہوں گے، کیونکہ کابینہ کی منظوری کے بعد نوٹوں کی پرنٹنگ اور اسٹاک میں وقت لگے گا۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کابینہ کے پاس موجود ہیں اور منظوری کے بعد ان کی پرنٹنگ کا عمل شروع کیا جائے گا۔ 3
انہوں نے کہا کہ نئے کرنسی نوٹوں میں جدید ترین سیکیورٹی فیچرز شامل ہوں گے اور عام شہری بھی بآسانی اصل اور نقلی نوٹ میں فرق کر سکے گا۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے انکشاف کیا کہ تین ممالک کے بڑے بینکوں نے پاکستان میں اپنے بینک کھولنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
شرح سود سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ شرح سود میں کمی سے حکومت کو براہِ راست بچت ہوتی ہے، کیونکہ شرح سود کم ہونے سے اسٹیٹ بینک کے منافع میں کمی آتی ہے، جبکہ اسٹیٹ بینک کا منافع حکومت کو منتقل کیا جاتا ہے، گزشتہ سال اسٹیٹ بینک نے حکومت کو 2.4 ٹریلین روپے منافع کی مد میں ادا کیے تھے۔
مزید پڑھیں : 10 سے 5 ہزار کے نئے ڈیزائن والے کرنسی نوٹ عوام کے لیے کب دستیاب ہوں گے؟
ترسیلات زر کے حوالے سے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ رواں برس ترسیلات زر مقررہ ہدف سے زیادہ رہنے کا امکان ہے اور یہ 42 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، تاہم مجموعی ایکسپورٹ میں کمی متوقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نان فوڈ ایکسپورٹ میں 5 سے 6 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ فوڈ ایکسپورٹ میں کمی آئی ہے، خاص طور پر چاول کی برآمدات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی سپورٹ کے بعد چاول کی ایکسپورٹ میں بہتری کی امید ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ رواں سال ساڑھے چار ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں ہیں، جو باآسانی ادا کر دی جائیں گی۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حوالے سےگورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اس شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے اور رواں برس 20 لاکھ مرچنٹس کو ڈیجیٹل نظام میں شامل کیا جائے گا۔ ایس ایم ای فنانسنگ میں بھی ڈیڑھ سو ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے امید ظاہر کی کہ شرح سود میں کمی کے بعد گھروں کے لیے قرضوں میں بھی بہتری آئے گی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


