مطالبات منظور، سندھ حکومت کی نرسز کو تنبیہ -
The news is by your side.

Advertisement

مطالبات منظور، سندھ حکومت کی نرسز کو تنبیہ

ینگ نرسز کا تین روز سے احتجاج جاری تھا

کراچی: حکومت سندھ نے گزشتہ تین روز سے احتجاج پر بیٹھی نرسز کے مطالبات منظور کرتے ہوئے انہیں عوام کی خدمت کرنے کی تنبیہ کردی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی پریس کلب کے باہر گزشتہ تین روز سے نرسز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا دھرنا جاری تھا، شرکا نے حکومت کے سامنے کچھ مطالبات رکھے تھے۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ انہیں عہدوں پر ترقی، ہیلتھ الاؤنس دیا جائے اور ادارے میں نئی بھرتیاں کی جائیں۔ سرکاری اسپتالوں میں احتجاج کے دوران کوئی نرس ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوئی جس کی وجہ سے ڈاکٹروں اور مریضوں کو پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

محکمہ صحت کے ذمہ داران نے گزشتہ روز پریس کلب کے باہر بیٹھی نرسز سے مذاکرات کیے جو کامیاب ہوگئے تھے البتہ صورتحال اُس وقت مزید گھمبیر ہوئی جب نرسز کے دو دھڑے بن گئے۔

مزید پڑھیں: سرکاری اسپتالوں میں نرسز کے موبائل فون استعمال پر پابندی

ایک دھڑے نے مظاہرہ ختم کرنے کا اعلان کیا تو دوسرا اپنے مؤقف پر ڈٹا رہا جس کے بعد یہ طے پایا کہ مظاہرین مطالبات کی منظوری ہونے تک پریس کلب کے باہر صبح سے شام تک روزانہ بیٹھیں گے اور اس دوران کو دفتری امور انجام نہیں دیں گے۔

کچھ دیر قبل ایڈیشنل سیکریٹری سندھ نے نرسز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کےذمہ داران سے ملاقات کی اور اُن کے مطالبات بھی سُنے، بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ ’ینگ نرسز کے مطالبات تسلیم کرلیے‘۔

ایڈیشنل سیکریٹری سندھ نے مظاہرین کو یقین دہانی کروائی کہ انہیں عہدوں پر ترقی اور نئی بھرتیوں کے لیے وزیراعلیٰ کو جلد سمری ارسال کی جائے گی۔

سیکریٹری سندھ نے ہیلتھ الاؤنس حل کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے نرسز کو متنبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے عوامی خدمت کو جاری رکھیں۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری اسپتالوں کی صورتحال سے متعلق سیکریٹری صحت کی رپورٹ

نرسز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مطالبات منظور ہونے اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کروانے کے بعد مظاہرہ ختم کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد احتجاج پر بیٹھی نرسز اپنے گھروں کو روانہ ہوگئیں۔

قبل ازیں مظاہرین نے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں کل وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف مارچ کا اعلان کیا تھا، شرکا سے اظہار یکجہتی کے لیے سندھ کی اپوزیشن جماعتیں دھرنے میں شریک ہوئیں اور انہوں نے حکومت سے مسائل کے حل کا فوری مطالبہ بھی کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں