The news is by your side.

Advertisement

حکومت کی سپریم کورٹ سے تلورکے شکارپرعائدپابندی پرنظرِثانی کی اپیل

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ عرب شیخوں کے مرغوب تلورکے شکارپرعائد پابندی کا ایک بارغورکیا جائے کہ محدود شکار سے نایاب نسل کے اس پرندے کی تعداد پرفرق نہیں پڑے گا۔

واضح رہے کہ عرب ممالک سے شیوخ کی ایک بڑی تعداد تلورکے شکار کےلئے پاکستان کے صوبے بلوچستان کا رخ کرتی ہے جس کے سبب نایاب نسل کے تلورکی تعداد میں کمی واقع ہوتی جارہی ہے۔

تلورکے شکار پرعائد پابندی سے پاکستان کے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب سے تعلقات میں فرق آرہاہے۔

رواں سال اگست میں سپریم کورٹ نے تلورکی شکارپرپابندی عائد کی تھی جسے جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے سرگرم حلقوں کی جانب سے خوش آمدید کیا گیا ہے۔

تاہم وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔ اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رحمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ محدود شکارکے ذریعے تلور کی نایاب ہوتی نسل کو بچایا جاسکتاہے لہذا اس کی اجازت دی جائے۔

یاد رہے کہ بلوچستان کے صوبائی ہائی کورٹ نے گزشتہ سال نومبرتلورکے شکارکے تمام لائسنس منسوخ کردئے تھے لیکن سعودی عرب کے قریبی اتحادی سمجھی جانے والی میاں نواز شریف کی حکومت کی جانب سے لائسنس کے اجرا کا سلسلہ جاری ہے۔

عالمی ادارہ برائے تحفظ قدرتی حیات نے تلورکو معدوم ہوتی پرندوں کی نسلوں میں شامل کررکھا ہے اور اندازے کے مطابق تلورکی دنیا بھر میں تعداد محض 97 ہزار رہ گئی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں