The news is by your side.

Advertisement

آئندہ پانچ سال کے لیے چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ، نئی آٹو پالیسی تیار

اسلام آباد: حکومت نے آئندہ پانچ سال کے لیے نئی آٹو پالیسی تیار کرلی جس میں چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ کی تجویز دی گئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وفاقی حکومت  نے آئندہ 5سال26-2021 کے لیے آٹوپالیسی تیار کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ 850 سی سی تک کی گاڑیوں پر ٹیکس کی چھوٹ دی جائے گی۔

آٹو پالیسی میں چھوٹی گاڑیوں پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی ختم کرنے، مقامی طور پر تیارکردہ گاڑیوں پر ایکسائزڈیوٹی ختم اور چھوٹی گاڑیوں پر ودہولڈنگ ٹیکس بھی ختم کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس کے علاقہ درآمد کی جانے والی چھوٹی گاڑیوں کو بھی ٹیکس کی چھوٹ دی گئی جبکہ امپورٹ کی جانے والی گاڑیوں کے ٹیکس پر ہر سال نظر ثانی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

نئی آٹوپالیسی کے تحت گاڑیوں کا برآمدی ہدف مقررکرنے، کارسازکمپنیوں کے لیے2026 تک10فیصد برآمدات اور آئندہ سال میں2 فیصدگاڑیاں برآمد کرنے اور 2024 تک چار فیصد گاڑیاں منگوانے کی اجازت دی گئی ہے۔

آٹو پالیسی کے تحت کارسازکمپنیوں کیلئے2025میں7فیصدگاڑیاں برآمد، گاڑیوں اور اسپیئرپارٹس کی برآمدات بڑھانےکیلئے اقدامات کرنے اور وزارت تجارت کو بیرون ممالک کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری دینےکا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جبکہ گاڑیوں اوراسپیئرپارٹس کی برآمدات پر عائد ٹیکس میں مراعات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت نے آٹوپالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کیلئے مراعات دینےکا فیصلہ بھی کیا، جس کے مطابق مقامی سطح پر تیار کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلزٹیکس17سے ایک فیصد، پرزہ جات پر کسٹم ڈیوٹی1فیصد، سی بی یوکی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی25سےکم کرکے10 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسی طرح موٹرسائیکل کے الیکٹرک پرزہ جات پر کسٹم ڈیوٹی کو کم کر کے ایک فیصد، ہائبرڈالیکٹرک گاڑیوں پر عائد سیلزٹیکس کو کم کر کے 8.5 فیصد، ہائبرڈ سی بی یو کی امپورٹ پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی جبکہ 1800سی سی سے اوپرکی ہائبرڈ گاڑیوں پر 15فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کم کرنے اور 1800سی سی سےکم ہائبرڈگاڑیوں پرریگولیٹری ڈیوٹی صفرکرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے۔

آٹوپالیسی کےتحت حفاظتی اقدامات کویقینی بنانےکیلئے سخت شرائط رکھی گئیں ہیں، جس کے مطابق حفاظتی معیار پرپورا نہ اترنے والی  گاڑیوں کی درآمد اور مقامی گاڑیوں کی تیاری پر بھی پابندی ہوگی جبکہ 30جون2022 کے بعد فٹنس اور کلیئرنس سرٹیفیکٹ کے بغیر سڑک پر آنے والی گاڑیوں کو بند کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں