The news is by your side.

Advertisement

گورنمنٹ کالج لاہور کا نقاب پہننے پر لڑکی کو داخلہ دینے سے انکار

لاہور : امریکہ اور یورپی ممالک میں نقاب پہننے پر اسکول اور کالجوں میں داخلہ نہ دینے کی خبریں تو عام ہیں، لیکن اب پاکستان کی ایک یونیورسٹی کی انتظامیہ نے لڑکی کو صرف اِس لیے داخلہ دینے سے انکار کر دیا کہ لڑکی نے نقاب کیا ہوا تھا۔

یہ واقعہ جی سی یو (گورنمنٹ کالج) یونیورسٹی لاہور میں پیش آیا، جب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ایک طالب علم مہرین شفق انٹرویو کے لیے یونیورسٹی گئی تو اُسے صاف انکار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اب یونیورسٹی کی یہ پالیسی ہے کہ نقاب کرنے والی لڑکیوں کو داخلہ نہ دیا جائے۔

گورنمنٹ کالج لاہور نے نقاب پہننے پر مہرین شفق نامی لڑکی کو داخلہ دینے سے انکار کردیا، متاثرہ  لڑکی کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ کالج لاہور کے مرد پینل نے نقاب اتارنے پر مجبور کیا جبکہ میں خواتین پینل کے سامنے نقاب اتارنے کو تیار تھی۔

مہرین کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر لڑکی کو پردہ کے ساتھ اس کے چہرے کا احاطہ کرنے کی آزادی ہونا چاہئے ، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور کوئی بھی پردہ پہننے سے ایک لڑکی کو روک نہیں سکتا ہیں، یہ ہمارا بنیادی حق ہے کیونکہ ہم خود کو تبدیل نہیں کریں گے، جی سی یو کالج خود سے اس طرح کی پالیسیاں نہیں بنا سکتا جو اسلام کے مخالف ہو۔

جس کے بعد مہرین نے اس کالج کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے نقاب کی بنیاد پر داخلہ نہ دینے پر ہائرایجوکیشن، گورنمنٹ کالج  کو نوٹس جاری کردیا ہے، تاہم عدالت نے درخواست کی سماعت 10ستمبر تک ملتوی کردی ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں