The news is by your side.

Advertisement

آئندہ مالی سال کیلئے کارپوریٹ سیکٹر کیلئے بڑے ٹیکس ریلیف پر غور

اسلام آباد : حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کیلئے کارپوریٹ سیکٹر کیلئے بڑے ٹیکس ریلیف پر غور ہورہا ہے، اس حوالے سے ایس ای سی پی نے اپنی تفصیلی تجاویز حکومت کو بھجوا دیں۔

تفصیلات کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے کارپوریٹ سیکٹر کیلئے بڑے ٹیکس ریلیف پر غور کیا جارہا ہے تاہم ایس ای سی پی کی لائف اور ہیلتھ انشورنس پر صوبائی سیلز ٹیکس کی مخالفت کی گئی۔

ایس ای سی پی نے اپنی تفصیلی تجاویز حکومت کو بھجوا دیں ، جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں انشورنس کروانےوالےافرادپہلےہی کم ہیں،16 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہونے سے انشورنس کا کاروبار متاثر ہوا ہے۔

ایس ای سی پی نے کہا کہ ایف بی آر انشورنس کیلئے ٹیکس کریڈٹ کی سہولت فراہم کرتا ہے، انشورنس پرسیلزٹیکس عائدکرناایف بی آرپالیسی کےمنافی اقدام ہے، دیگر انشورنس اسکیم پربھی سیلزٹیکس عائد نہ کیا جائے۔

تجاویز میں کہا گیا کہ لائف انشورنس کی شرح 0.5 فیصد، دیگرانشورنس کی شرح 0.3فیصدہے ، سیلز ٹیکس ختم کرنے سے ایسی مصنوعات کا پریمیئم کم ہو گا۔

ایس ای سی پی کا کہنا تھا کہ انشورنس پراسٹیمپ ڈیوٹی کوبھی ختم کیاجائے ، انشورنس ایجنٹوں پرودہولڈنگ ٹیکس کوختم کیاجائے۔

ایس ای سی پی نے مزید کہا کہ انشورنس ایجنٹوں پرپنجاب نے پہلے ہی 5فیصدسیلزٹیکس عائد کیا ہوا ہے ، رئیل اسٹیٹ انوسٹمنٹ ٹرسٹ کیلئے اسٹمپ ڈیوٹی اور ٹرانسفر فیس میں کمی کی جائے۔

تجویز میں کہا گیا کہ ویئرہاوٴسنگ خدمات ، گودام، کولڈ اسٹوریج پر 16 فیصد سیلز ٹیکس عائد نہ کیا جائے اور 10سال کیلئے زرعی شعبے کو ویئرہاوٴسنگ کی بہتر سہولیات کیلئے ٹیکس صفر رکھا جائے۔

ایس ای سی پی نے کہا کہ تمام صوبوں میں صوبائی سیلزٹیکس کی شرح یکساں کی جائے ، اس وقت سندھ میں سیلزٹیکس 13فیصد ،دیگرصوبوں میں 16فیصد ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں