site
stats
پاکستان

حکومت ووٹ کے لیے لدھیانوی سے رابطہ کرتی ہے، جماعت اسلامی

اسلام آباد: جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ چوہدری نثار علی خان سے احمد لدھیانوی کی ملاقات میں کوئی کردار ادا نہیں کیا تاہم اگر وہ مقدمات میں مطلوب تھے تو ان کو گرفتار کرنا چاہیے تھا جبکہ ترجمان جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیر داخلہ نے جس ملاقات کا ذکر کیا وہ اُن کی ہی خواہش پر ہوئی، حکومت ووٹ لینے کے لیے احمد لدھیانوی سے رابطہ کرتی ہے جبکہ رانا ثناء اللہ باقاعدگی سے ان کے جلسوں میں حاضریاں دیتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے چوہدری نثار کی جانب سے عائد ہونے والے الزامات کے جواب میں اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ مولانا احمد لدھیانوی اور چوہدری نثار کی ملاقات ہماری وجہ سے نہیں ہوئی تاہم اگر وہ مقدمات میں مطلوب تھے تو انہیں فوری طور پر گرفتار کرلینا چاہیے تھا۔


پڑھیں: ’’ کمیشن کی رپورٹ کو ہر فورم پر چیلنج کروں گا، چوہدری نثار ‘‘


خیال رہے سانحہ کوئٹہ اور سول اسپتال کے حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دیے گئے کمیشن کی رپورٹ کے جواب میں چوہدری نثار علی خان نے جارحانہ پریس کانفرنس میں کہا کہ مولانا احمد لدھیانوی جماعت اسلامی کے وفد کے ہمراہ ملاقات کے لیے آئے تھے اس بات کا جواب جماعت اسلامی سے ہی لیا جائے۔

دوسری جانب جماعت اسلامی کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں وفاقی وزیر داخلہ کے الزام کو مسترد کیا گیا ہے جبکہ جماعت اسلامی کے ترجمان امیر المعظم نے کہا کہ چوہدری نثار نے ملاقات کا جواب دینے کے بجائے ایک نیا سوال کھڑا کردیا۔


یہ بھی پڑھیں: ’’ سانحہ کوئٹہ پر کمیشن نے حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے ‘‘


انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ نے جس ملاقات کا ذکر کیا وہ ملاقات چوہدری نثار علی خان کی اپنی مرضی اور خواہش سے ہوئی، حکومت کو جب ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ احمد لدھیانوی سے رابطہ کرکے مدد طلب کرتی ہے۔


مزید پڑھیں: ’’ چوہدری نثار کے ہوتے ہوئے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں، سعید غنی ‘‘


امیر المعظم نے کہا کہ رانا ثناء اللہ باقاعدگی سے احمد لدھیانوی کی جماعت کے جلسوں میں شرکت کرتے ہیں بلکہ اُن کی مجلسوں میں مستقل حاضری بھی دیتے ہیں۔ ترجمان جماعت اسلامی نے کہا کہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کا مقصد پنجاب میں علمائے کرام، کارکنوں کی بلاجواز گرفتاریوں اور لاؤڈ اسپیکر اتارنے کے تحفظات شامل تھے۔

علاوہ ازیں دفاع پاکستان کے رکن اعجاز الحق نے کہا کہ پی پی کے چار مطالبات دراصل دو باتیں منوانے کے لیے ہیں، پیپلزپارٹی ایان علی اور ڈاکٹر عاصم کو رہا کروانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’دفاع پاکستان نہ تو کالعدم ہے اور نہ ہی سیاسی پلیٹ فارم ہے، وزیر داخلہ سے استعفے کا مطالبہ کرنے والے لوگ مودی سے استعفے دینے کا مطالبہ نہیں کرتے جبکہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے واضح ثبوت موجود ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top