site
stats
انٹرٹینمںٹ

وفاقی حکومت فلم ’مالک‘ پرپابندی کی ٹھوس توجیہہ پیش کرنے میں ناکام، عدالت

لاہور:ہائی کورٹ نے فلم مالک کی نمائش پرپابندی کے خلاف دائردرخواستوں پرفیصلہ محفوظ کر لیا، عدالت نے قراردیا کہ وفاقی حکومت فلم کی نمائش پرپابندی عائد کرنے کے حوالے سے ٹھوس وجوہات پیش نہیں کرسکی۔.

تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے اپوزیشن لیڈر پنجاب میاں محمود الرشید اوراظہرصدیق ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

درخواست گزاروں کے وکلاء نے دلائل دیے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کے پاس یہ اختیارنہیں رہا کہ وہ کسی فلم کی نمائش پرپابندی عائد کرسکے، یہ اختیاراب صوبائی حکومتوں کے پاس ہے۔ پنجاب سنسربورڈ نے فلم کی نمائش کی اجازت دی تھی لیکن اس کے باوجود وفاقی حکومت نے پابندی عائد کردی۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فلم میں سیاسی شخصیات کی تضحیک کی گئی ہے جس کی وجہ سے ملک بھرمیں انتشارپیدا ہونے کا خطرہ ہے، اس فلم کے خلاف ملک بھر سے شکایات موصول ہوئیں جن کے بعد پابندی عائد کی گئی۔ وفاقی حکومت نے آئینی اختیارکے تحت ہی نمائش پر پابندی عائد کی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ جو اس فلم میں دکھایا گیا ہے اس میں ایسا کیا قابل اعتراض مواد ہے جس کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی۔

فلم مالک میں جو دکھایا گیا وہ تو پہلے ہی ٹی وی چینلز اور فلموں میں دکھایا جا چکا ہے اب جو شخص فلم دیکھنا چاہے وہ دیکھے جو نہ دیکھنا چاہے اسے دیکھنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت نے قراردیا کہ وفاقی حکومت فلم کی نمائش پرپابندی کے حوالے سے ٹھوس وجوہات پیش نہیں کرسکی۔

درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ فلم کے خلاف جو شکایات پیش کی گئیں وہ فرضی ہیں اور جن لوگوں کے نام سے شکایات کا اندراج ہوا وہ اسے تسلیم کرنے سے انکارکررہے ہیں، دوسری جانب عدالت میں غلط بیانی پرذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کے لیے بھی درخواست زیرسماعت ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے استدعا کی گئی کہ اگرعدالت فیصلہ دینا چاہے تو فلم کی نمائش پر پابندی کا نوٹفیکیشن 60 روز کے لیے معطل کردے تاہم فاضل جج کا کہنا تھا کہ فیصلہ دینا عدالت کا اختیار ہے وہ قانون کے مطابق اپنا فیصلہ دے گی۔

عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فلم مالک کی نمائش پرپابندی کے خلاف درخواستوں پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top