وفاقی/ صوبائی حکومتیں ’اردوکے نفاذ‘ کےعدالت عظمیٰ کے فیصلے پرعمل درآمد کرنے میں ناکام -
The news is by your side.

Advertisement

وفاقی/ صوبائی حکومتیں ’اردوکے نفاذ‘ کےعدالت عظمیٰ کے فیصلے پرعمل درآمد کرنے میں ناکام

اسلام آباد: اردو کو دفتری اور سرکاری زبان کے طور پر نافذ کرنے کی عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے دی جانے والی مہلت ختم ہوگئی ، تاہم قومی زبان کا نفاذ نہیں ہوسکا۔

تفصیلات کے مطابق عدالت عظمیٰ نے آئین کے آرٹیکل 251 کے تحت جاری کردہ ایک حکم میں حکومت کو عملدرآمد کےلیے آٹھ دسمبر تک کی مہلت دی تھی کہ اردو کو سرکاری اور دفتری زبان کے طور پررائج کیا جائے۔

تاہم وفاقی حکومت سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے پرتاحال عملدرآمد کرانے میں حکومت ناکام رہی ہے۔

حکومت پاکستان نے سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی معیاد کے ختم ہونے کے بعد اپنے موقف میں کہا ہے کہ جلد اردوزبان کو جلد اداروں کے امور میں منتقل کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ رواں سال ماہ ستمبرمیں عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایڈوکیٹ کوکب اقبال کی جانب سے دائرکردہ درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کو تین ماہ کے اندراردو کو دفتری زبان کے طورپر نافذ کرنےکا حکم صادر کیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں دی گئی مہلت کے اندر اردو کو نافذ کرنے کی سختی سے ہدایت کی تھی جس پرعمل درآمد نہیں کیاجاسکا۔


جسٹس جواد کا تاریخ ساز فیصلہ


چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے فیصلہ بھی اردو میں پڑھ کر سنایاتھا،فیصلے میں جواحکامات دیئے گئے تھے وہ کچھ یوں ہیں۔

آرٹیکل دوسواکیاون کے احکامات کو غیر ضروری تاخیر کے بغیر فوراً نافذ کیا جائے۔

قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں۔

تین ماہ کے اندر اندر وفاقی اور صوبائی قوانین کا قومی زبان میں ترجمہ کر لیا جائے۔

بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے نگرانی کرنے اور باہمی ربط قائم رکھنے والے ادارے آرٹیکل دوسواکیاون کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں نفاذ یقینی بنائیں۔

وفاقی مقابلے کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کے بارے میں حکومتی اداروں کی سفارشات پر عمل کیا جائے۔

ان عدالتی فیصلوں کا، جو عوامی مفاد سے تعلق رکھتے ہوں یا جو آرٹیکل ایک سو نواسی کے تحت اصولِ قانون کی وضاحت کرتے ہوں، ان کالازماً اُردو میں ترجمہ کروایا جائے۔

عدالتی مقدمات میں سرکاری محکمے اپنے جوابات حتیٰ الامکان اُردو میں پیش کریں تا کہ شہری اس قابل ہو سکیں کہ وہ موثر طریقے سے اپنے قانونی حقوق نافذ کروا سکیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں