The news is by your side.

Advertisement

حکومتی اقتصادی سروے 2017-18 جاری، ترقی کی شرح 5.8 فیصد، غربت میں کمی

اسلام آباد: حکومت نےاقتصادی سروے17-2018جاری کردیا جس کے مطابق ملک میں اقتصادی ترقی کی شرح 5.8 فیصد رہی اور غربت میں کمی ہوئی، وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ 2013 میں پاکستان کی معیشت اور ریاست کئی بحرانوں کا شکار تھی جسے موجودہ حکومت نے ختم کیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 2013 میں 18 سے 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ معمول تھی جس کی وجہ سے صنعتیں بند ہوئیں اور سیکڑوں مزدور بے روز گار ہوئے، ماہرین پانچ سال قبل خدشہ ظاہر کررہے تھے کہ توانائی بحران کی وجہ سے خانہ جنگی کا خطرہ ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ 2013میں پاکستان کی معیشت اور ریاست کئی بحرانوں میں مبتلا تھی، ملک توانائی کے بحران نے بری طرح گھیرا ہوا تھا، کراچی میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ معمول تھی جس کی وجہ سے سرمایہ کار ملک چھوڑ کر گئے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 2008سے2012کےدرمیان شرح نمو 3فیصد تک تھی، بدقسمتی سے14سال پہلے پاکستان کے پاس معاشی حکمتِ عملی سے متعلق کوئی فریم نہیں تھا تاہم مسلم لیگ ن کی حکومت نے ان تمام مسائل کا مقابلہ کیا اور باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ کام شروع کیا جس کی وجہ سے پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے بڑی انفرااسٹریکچر اکانومی بن گیا۔

مزید پڑھیں: اقتصادی سروے رپورٹ: معاشی ترقی کی شرح پونے چھ فیصد سے زائد

اُن کا کہنا تھا کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کو300سے 1000ارب روپےپر لائے،  پاکستان میں 11ہزار میگاواٹ بجلی 4 سالوں کے دوران سسٹم میں شامل ہوئی جس کی وجہ سے ملک میں لوڈ شیڈنگ بہت کم ہوئی علاوہ ازیں انتہاپسندی کےخاتمےکیلئےسیکیورٹی آپریشن کو اپنے بجٹ سے شروع کیا اور حکومت نے ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔

مسلم لیگ ن کی حکومت نے ان تمام مسائل کا مقابلہ کیا اور باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ کام شروع کیا جس کی وجہ سے پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے بڑی انفرااسٹریکچر اکانومی بن گیا۔

احسن اقبال وفاقی وزیر داخلہ

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ خوشی ہےرواں سال جی ڈی پی گروتھ ریٹ 5.8فیصد پرآچکا گزشتہ سال سیاسی بحران نے ملک میں بےیقینی پیدا کی تھی اگر سیاسی بحران نہ ہوتا تو جی ڈی پی کو 6.1 فیصد پر لے جاچکے ہوتے، پانچ سال پہلے پاکستان کی اوسط شرح 3فیصد تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ چھالیس ارب ڈالر کے سی پیک منصوبے میں مختصر مدت میں 29 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوچکی جو آسان کام نہیں، حکومت نے ساڑھے1700کلومیٹر موٹروے کی تعمیر شروع کی اس کے علاوہ 2025 تک 15 ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبے بھی بنائے کیونکہ ترقیاتی منصوبوں میں پاور پراجیکٹس ہماری اولین ترجیح ہے۔

اس موقع پر مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ گذشتہ چار برسوں کے دوران زراعت میں 3.81 فیصد اضافہ ہوا اور مہنگائی کی شرح 13سال کی کم ترین سطح پر آئی کیونکہ اس کی شرح ماضی میں 7.38فیصد تھی جو اب کم ہوکر 3.8فیصد ہوگئی، سن 2013 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 1946 ارب روپے حاصل کیے تھے مگر اب ایف بی آر کا ہدف 3900 ارب روپے سے زائدہے، موجودہ مالی سال میں3900ارب روپےسےزائدکاریونیو اور جی ڈی پی 11فیصد رہی۔

اُن کا کہنا تھا کہ  حکومت نےتمام وعدےپورےکیے، برآمدات میں بھی اضافہ ہوا تاہم تین سالوں کے دوران ملکی برآمدات میں کمی ہوئی جس کی وجہ سے جاری کھاتے کا خسارہ بھی 2 سال کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوگیا۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھاکہ 3ماہ کے لیے عبوری بجٹ پیش کرنا ممکن نہیں اس لیے وفاقی حکومت ایک سال کا ہی بجٹ پیش کرے گی اور صوبے بھی اس پر عمل کرتے ہوئے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کریں گے۔ مشیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم کسی کےچوری کے پیسے کے لیے نہیں لائے بلکہ ٹیکس ریٹ کم کر کے لوگوں کو موقع دیا کہ وہ اپنی سرمایہ کاری واپس لائے ۔

سوال کا جواب دیتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ہم 1990اور 1960 میں 2کیچ ڈراپ کرچکے ہیں جس کی وجہ سے معیشت کو دھچکا بھی لگا،  اب سی پیک کے ذریعے ہمیں تیسری بار موقع ملا اگر ہم نے فائدہ اٹھا لیا تو پاکستان دنیا کی بڑی معیشتوں میں جلد شامل ہوجائے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10سال میں غربت کی شرح میں کمی آئی ہے، سیاسی استحکام اور معیشت کا چولی دامن کا ساتھ ہے اس لیے ہمیں سیاسی ایڈونچر سے پرہیز کرنا ہوگا۔

Card

 


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں