سانحہ ماڈل ٹاؤن: تحقیقاتی رپورٹ پر حکم امتناع کی حکومتی استدعا مسترد -
The news is by your side.

Advertisement

سانحہ ماڈل ٹاؤن: تحقیقاتی رپورٹ پر حکم امتناع کی حکومتی استدعا مسترد

لاہور: ہائی کورٹ کے فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی عدالتی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانے کے فیصلے کے خلاف  پنجاب حکومت کی اپیل پر فریقین کو نوٹس جاری کر دئیے، عدالت نے سنگل بنچ کے فیصلے پر حکم امتناع کی استدعا مسترد کر دی۔

لاہور ہائی کورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی عدالتی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر لانے کے فیصلے کے خلاف حکومتی اپیل کی سماعت جسٹس عابد عزیز شیخ، جسٹس شہباز علی رضوی اور جسٹس قاضی محمد امین کے روبرو ہوئی۔

سرکاری وکیل نے درخواست میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سنگل بنچ نے حکومتی موقف پوری طرح نہیں سنا اور یک طرفہ فیصلہ دے دیا، انکوائری رپورٹ کے متعلق درخواستیں فل بنچ میں زیر التوا ہونے کے باعث سنگل بنچ کو فیصلے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔

سرکاری وکیل کے مطابق سنگل بنچ نے جلدبازی میں قانونی تقاضوں کے برعکس فیصلہ دیا اور حکومت سے تحریری جواب تک نہیں مانگا،  جوڈیشل انکوائری حکومت حقائق جاننے کے لیے کراتی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

سرکاری وکیل نے مزید کہا کہ سنگل بنچ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ  کرنے پر درخواست گزاروں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت 4 فریقین کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے لہذا اپیل کے  فیصلے تک سنگل بنچ کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کیا جائے۔

ادارہ منہاج القرآن کے وکیل نے کہا کہ وہ توہین عدالت کے کیس پر تاحکم ثانی کیس کی  کارروائی اور پیروی کے لیے نہیں کریں گے اس لیے سنگل بنچ کا فیصلہ معطل نہ کیا جائے جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس اپیل میں بہت سے سارے قانونی نکات عدالت کے سامنے ہیں جن کا جائزہ لیا جائے گا، آئندہ تاریخ سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے گی۔

 عدالت نے حکومت  پنجاب کی جانب سے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی کی استدعا نامنظور کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ اپیل کو طول نہیں دیا جائے گا۔

عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 2 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

اس سے قبل قائم مقام چیف جسٹس یاور علی کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے اپیل کی سماعت سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد سماعت کے لیے دوسرا فل بنچ تشکیل دیا گیاتھا جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب اور رانا ثنااللہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی  فل بنچ کی سماعت کے باعث بغیر کارروائی کے ملتوی کر دی گئی۔


نئے بینچ کی تشکیل

یاد رہے کہ حکومت کی مذکورہ اپیل کی سماعت کے لیے اس سے قبل تشکیل دیے گئے بینچ کے ایک رکن جسٹس یاور علی نے آج صبح ہی کیس کی سماعت سے معذرت کرلی تھی جس کے بعد یہ بینچ تحلیل کر کے نیا بینچ تشکیل دے دیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے قائم کردہ نئے فل بینچ کی سربراہی جسٹس عابد عزیز شیخ کر رہے ہیں جبکہ دیگر اراکین میں جسٹس امین الدین اور جسٹس شہباز رضوی شامل ہیں۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس سے متعلق ایک اور سماعت میں آج صبح ہائیکورٹ نے نواز شریف اور شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواست بھی قابل سماعت قرار دے دی ہے۔

مذکورہ درخواست میں وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ اور مشتاق سکھیرا کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ہائیکورٹ نے 2 ہفتے میں وزارت داخلہ سے جواب طلب کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ 3 سال قبل لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی جانب سے منہاج القرآن مرکز کے ارد گرد سے رکاوٹیں ہٹانے کے نام پر آپریشن کیا گیا جہاں کارکنوں اور پولیس کے درمیان سخت مزاحمت ہوئی۔

اس دوران پولیس کے شدید لاٹھی چارج کے سبب 14 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں