حکومت اور رینجرزنے ایم کیو ایم کی’ہڑتال‘ کی کال کی مخالفت کردی -
The news is by your side.

Advertisement

حکومت اور رینجرزنے ایم کیو ایم کی’ہڑتال‘ کی کال کی مخالفت کردی

اسلام آباد: وفاقی وزیرِاطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ ملک میں ہڑتالوں کی سیاست ختم ہوچکی ہے اور کسی کو بھی دھونس اور دہشت کے زور پر ہڑتال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسلام آباد میں نیشنل بک فاوٗنڈیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک ہڑتالوں کی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا اورکسی کوبھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ سڑکوں پرٹائرجلا کریا ہوائی فائرنگ کرکے عوام کو ہڑتال پر مجبور کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے تاجرشہرکی صورتحال سے مطمئن ہیں اور اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کے لئے عدالتیں موجود ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمن نے ایم کیو ایم کے استعفوں اور تحفظات سے متعلق اپنی ذمہ داری کردی ہے اور اب کسی کو تحفظات ہیں تو وہ متعلقہ کمیٹی سے رجوع کرے۔

پرویز رشید کا کہناتھا کہ ایم کیوایم نے اتفاق رائے کے باوجود صبح پانچ بجے پریس کانفرنس کی جس کی انہیں وضاحت کرنا ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ سب نے مل کر اشتعال انگیز تقاریر کے خلاف اتفاق رائے کیا تھا اور اب کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہونچا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ججز کی تقرری میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے اور کسی کو بھی دھرنا دے کر اس کی جگہ سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے۔

رینجرز کا بیان

دریں اثناء نے رینجرز نے موقف اختیار کیا ہے کہ کراچی میں کسی کو بھی زبردستی دکانیں اور کاروباری مراکز بند نہیں کرانے دیں گے۔

جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ رینجرزشرپسند عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نپٹے گی۔

صوبائی وزیرِ داخلہ کے احکامات

دوسری جانب سندھ کے محکمہ داخلہ نے شہر کی ممکنہ پرتشدد صورت حال کے پیش نظر محکمہ پولیس کوہائی الرٹ کردیا ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے احکاما ت جاری کئے ہیں کہ پولیس شرپسند عناصر کو موقع پر ہی گرفتار کرے۔

انہوں نے متعلقہ حکام ہدایات کی ہے کہ صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور غلط کاروائیوں میں مشغول افراد پر کڑی نظر رکھئی جائے۔

ایم کیو ایم کا یومِ سوگ کا اعلان

آج بروز جمعہ شام میں متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے چار کارکنان کی رینجرزمقابلے میں ہلاکت کو ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے ملک بھرمیں یومِ سوگ کا اعلان کیا تھا۔

ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ گزشتہ روز جن چار دہشت گردوں کو مقابلے میں ہلاک کرنے کا رینجرز نے دعویٰ کیا ہے وہ ان کی جماعت کے کارکن تھے اور انہیں جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں