The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد دھرنا، حکومت مسئلے کو جلد حل کرے، چوہدری نثار

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنماء اور سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ دھرنے کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، حکومت مسئلے کو جلد حل کرنے کے لیے اقدامات بروئے کار لائے۔

تفصیلات کے مطابق مذہبی و سیاسی جماعتوں تحریک لبیک پاکستان اور پاکستان سنی تحریک کی جانب سے آئین کی انتخابی شق 203 کی ترمیم کی آڑ میں ختم نبوت کے قانون کو ختم کرنے والے ذمہ داران کے خلاف گزشتہ ایک ہفتے سے احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔

حکومت نے اکتوبر کے مہینے میں آئین کی انتخابی شق میں ترمیم کرتے ہوئے امیدواران کے حلف نامے میں تبدیلی کی تھی تاہم عوام اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے شدید دباؤ کے بعد حلف نامے کو اصل حالت میں بحال کرنے کا اعلان کیا گیا۔

آئین کی انتخابی شق 203 میں ہونے والی ترمیم کے بعد شیخ رشید احمد نے قومی اسمبلی کے فلور پر تقریر کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ ’حکومت نے اس ترمیم کے ذریعے ختم نبوت کے قانون کو تبدیل کیا ہے‘۔

مزید پڑھیں: ختم نبوت ﷺ میں ترمیم، پورے ایوان سے اجتماعی گناہ ہوا، فضل الرحمان

امیدوار کا حلف نامہ اصل حالت میں بحال ہونے کے بعد تحریک لبیک پاکستان اور پاکستان سنی تحریک نے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی اور وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو فوری طور پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ سامنے آیا۔

دوسری جانب حکومتی مؤقف سامنے آیا تھا کہ سابق نااہل وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی ہدایت پر واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو ذمہ داران کا تعین کر کے اُن کے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

دونوں مذہبی جماعتوں نے دو ہفتے قبل اسلام آباد میں مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا اور پھر کارکنان کے ہمراہ لاہور سے قافلے نے وفاقی دارالحکومت کی جانب مارچ شروع کیا۔

اسلام آباد انتظامیہ نے پیش قدمی روکنے کے لیے فیض آباد انٹرچینج پر داخلی راستوں کو کنٹرینر لگا کر سیل کردیا تھا جس کے بعد مظاہرین نے اُسی مقام پر احتجاجی کیمپ نصب کر کے پڑاؤ ڈال لیا۔

یہ بھی پڑھیں: دھرنے والے لاشیں گرانا چاہتے ہیں، انکا مقصد کامیاب نہیں ہوگا، احسن اقبال

فیض آباد انٹر چینج اور دیگر علاقوں کے داخلی راستوں کو بند کرنے کے بعد جڑواں شہروں میں ٹریفک کی صورتحال گھمبیر ہے اور وہاں کے شہریوں کو سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دو روز قبل وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دھرنا مظاہرین کو  فوری طور پر منشر ہونے کا مشورہ دیا اور نہ ماننے کی صورت میں طاقت کے استعمال کا عندیہ دیا تھا۔

ایک روز قبل وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ دھرنے والے ایک اور ماڈل ٹاؤن جیسا سانحہ چاہتے ہیں مگر حکومت طاقت کا استعمال کسی صورت نہیں کرے گی تاہم ہم عوام کی پریشانی کو بھی جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی اور سیاسی صورتحال پر تفیصلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسے بھی پڑھیں: اسلام آباد دھرنے والوں‌ کے مطالبات آئین سے متصادم ہیں، طلال چوہدری

اُن کا وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دھرنے کے باعث راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، حکومت کو مسئلے کے جلد از جلد حل کے لیے اقدامات کرنے چاہیں۔

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما کا مظاہرین کو منتشر ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ عوام کو تکلیف دینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، دھرنے کی وجہ سے محلقہ آبادیوں اور ملک بھر سے آنے والے شہریوں کو اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب پولیس نے مظاہرین کے خلاف اب تک 4 تھانوں میں 15 سے زائد مقدمات درج کرکے 27 مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔


 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں