اسلام آباد : وفاقی حکومت گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کیلئے 7 سالہ اقساطی منصوبہ متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت ایک کروڑ تک کے قرض کی سہولت دی جا سکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں جان ڈالنے کے لیے آٹو انڈسٹری ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پالیسی 2026–31 کے تحت نئی اور آسان اصلاحات پر غور کر رہی ہے۔
اس پالیسی کا بنیادی مقصد گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لانا اور عوام کے لیے بینک فنانسنگ کو آسان بنانا ہے۔
عوام کی قوتِ خرید بڑھانے کے لیے بینکوں کے ساتھ مل کر َمختلف تجاویز پر کام ہو رہا ہے، جس میں کار فنانسنگ کی مدت کو بڑھا کر 7 سال تک کرنے کی تجویز ہے جبکہ گاڑی کی ابتدائی ادائیگی کو کم کر کے 15 فیصد تک لانے کا منصوبہ ہے۔
اسی طرح مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں کے لیے قرض کی حد ایک کروڑ روپے تک مقرر کرنے کی تجویز ہے۔
پالیسی میں خریداروں کو کمپنیوں کی من مانی سے بچانے کے لیے سخت اقدامات شامل ہیں ، جس میں گاڑی کی بکنگ کے وقت قیمت کو فکس کر دیا جائے گا (تاکہ بعد میں قیمت نہ بڑھے اور اگر گاڑی 30 دن کے اندر نہ ملی، تو کمپنی خریدار کو KIBOR + 3% کے حساب سے جرمانہ ادا کرے گی جبکہ بکنگ کے وقت کل قیمت کا صرف 20 فیصد وصول کیا جا سکے گا۔
استعمال شدہ گاڑیاں کی درآمد کو ریگولیٹ کیا جائے گا، اور 2030 تک ٹیرف پریمیم کو 40 فیصد سے کم کر کے صفر پر لایا جائے گا جبکہ گاڑیوں کے پرزوں (CKD) پر ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دی جائے گی۔
حکومت کا ہدف ہے کہ 2031 تک پاکستان کی سڑکوں پر 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک (NEVs) ہوں۔ اس کے لیے پورے ملک میں 3,000 چارجنگ اسٹیشنز لگائے جائیں گے ، اسلام آباد میں الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس فری ہوگا جبکہ ٹول ٹیکس میں بھی چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔
اس کا مقصد سالانہ گاڑیوں کی پیداوار 5 لاکھ سے زائد کرنا . گاڑیوں کی برآمدات (Exports) کو ایک ارب ڈالر تک لے جانا اور مقامی سطح پر پرزہ سازی (Localization) کو فروغ دینا تاکہ قیمتیں مزید کم کرنا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


