اسلام آباد: وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ حکومت شادی سے پہلے تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے جا رہی ہے ، شادی سے پہلے لڑکی کا نہیں بلکہ لڑکے کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی ہونا چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے جینیوم پالیسی کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ہیلتھ کیئر اب صرف صحت کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ "نیشنل سیکیورٹی” کا ایشو بن چکا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ملکی تاریخ کی پہلی ‘جینیوم پالیسی’ ایک ماہ کے اندر سامنے آ جائے گی، جس کے تحت بیماریوں کے روایتی علاج کے بجائے ان کی پیشگی روک تھام پر توجہ دی جائے گی۔
وفاقی وزیرِ صحت نے پریس کانفرنس میں صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا پاکستان کی تاریخ کی پہلی جینیوم پالیسی اگلے ایک ماہ میں تیار ہو جائے گی۔ اس وقت پاکستانی شہری لاکھوں روپے خرچ کر کے بیرونِ ملک سے جینیوم ٹیسٹ کرواتے ہیں۔ ہم ایک نیوکلیئر پاور ہیں، ہمارے پاس ملک کے اندر ہی جینیوم ٹیسٹنگ کے لیے جدید ترین لیبارٹریز ہونی چاہئیں۔
انھوں نے بتایا کہ حکومت ملک سے مہلک بیماریوں کے خاتمے کے لیے شادی سے پہلے تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کو قانوناً لازمی قرار دینے جا رہی ہے، شادی سے پہلے صرف لڑکی کا نہیں، بلکہ لڑکے کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ ہونا لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
مصطفیٰ کمال نے ملک میں بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور اسپتالوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے "پاکستان سال 2030 تک آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک بننے جا رہا ہے۔ اس نازک معاشی صورتحال میں کوئی بھی ملک بیماریوں کا اتنا بڑا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ بدقسمتی سے ہم ہر بیماری میں دنیا بھر میں نمبر ون بننے جا رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں کوئی نئی وبا نہیں پھوٹی، لیکن اس کے باوجود اسپتالوں میں وبائی مرض جیسی صورتحال ہے اور تمام ہاسپٹلز مریضوں سے بھرے پڑے ہیں، ہمارا موجودہ نظامِ صحت دراصل ‘بیماری کا نظام’ بن چکا ہے، ہمیں اب روایتی علاج کے بجائے باقاعدہ ہیلتھ کیئر اور جینیوم پروفائلنگ کی طرف جانا ہوگا تاکہ بیماریوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔”
وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سالانہ 200 سے 300 بلین (ارب) روپے مہلک بیماریوں کے علاج پر خرچ ہو جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہیلتھ سیکٹر کے بجٹ میں مسلسل کٹوتی پر کٹوتی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان تمام معاشی چیلنجز اور وسائل کی شدید کمی کے باوجود ہم ہار نہیں مانیں گے اور ملک کے ہیلتھ سسٹم کو ہر صورت بہتر بنا کر دم لیں گے۔


