The news is by your side.

Advertisement

عمران فاروق قتل کیس، حکومت نے ایک بار پھر بانی متحدہ کی حوالگی کا مطالبہ کردیا

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے برطانیہ سے بانی متحدہ سمیت ایم کیو ایم کے دو سینئر رہنماؤں کوی حوالگی کا مطالبہ کردیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے انسداد دہشت گردی عدالت سے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ آنے کے دو ماہ بعد برطانیہ سے درخواست کی کہ وہ اپنی سرزمین پر مقیم ایم کیو ایم رہنماؤں کو ہمارے حوالے کرے۔

درخواست کے متن میں لکھا گیا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں عدالت نےمحسن علی سید، معظم علی اور مطلوب افرادکو عمر قید کی سزاسنائی جبکہ بانی ایم کیو ایم کو اشتہاری بھی قرار دیا۔

متن میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان کےتعاون کےسبب قاتلوں کوسزائیں ہوئیں، اب برطانیہ تعاون کرتے ہوئے عدالت سے سزا یافتہ دیگر ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں کردار ادا کرے۔

پاکستان نے درخواست میں تجویز پیش کی کہ حکومت برطانیہ مطلوب ملزمان کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کرے کیونکہ  ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانےکاسلسلہ جاری رہناچاہیے۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس: سزایافتہ مجرموں نے عدالتی فیصلہ چیلنج کردیا

یاد رہے ایم کیو ایم رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 18 جون کو زیر حراست تینوں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ، عدالت نے قتل کی سازش، معاونت اورسہولت کاری پر کیس کا فیصلہ جاری کیا تھا۔

عدالت نے بانی متحدہ اور افتخار حسین ، اشتہاری ملزمان محمد انور اور کاشف کامران کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے تھے۔ خیال رہے ایم کیو ایم کے رہنما عمران فاروق قتل کیس میں اعترافی بیان ریکارڈ کرانے والے خالد شمیم اورمحسن علی بیان سے مکر گئے تھے، دونوں گرفتار ملزمان نے 5سال قبل مجسٹریٹ کواعترافی بیانات ریکارڈ کرائے تھے۔

واضح رہے ڈاکٹر عمران فاروق 16 ستمبر 2010 کو لندن میں اپنے دفتر سے گھر جارہے تھے کہ انہیں گرین لین کے قریب واقع ان کے گھر کے باہر چاقو اور اینٹوں سے حملہ کرکے قتل کردیا گیا تھا، حملے کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں