The news is by your side.

Advertisement

اندرون سندھ کچے میں گرینڈ آپریشن کا فیصلہ، پولیس نے بکتر بند اور جدید اسلحہ مانگ لیا

سکھر: سندھ پولیس نے اندرون سندھ کچے میں گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے لیے پولیس نے سندھ حکومت سے بکتر بند اور جدید اسلحہ مانگ لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اندرون سندھ کچے میں گرینڈ آپریشن کے لیے پولیس نے جدید وھیکلز کا مطالبہ کر دیا ہے، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے لیے خود کار ہتھیار بھی محکمے کو درکار ہیں۔

ذرائع کے مطابق آج شکارپور کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن پانچویں روز بھی جاری رہا، اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بریفنگ دی گئی، جس میں محکمے کے لیے جدید ہتھاروں اور گاڑیوں کا مطالبہ کیا گیا، وزیر اعلیٰ کو پولیس جوانوں کے کھانے اور پینے کے لیے بھی فنڈز پر بریفنگ دی گئی۔

سندھ میں شکارپور، گھوٹکی، کشمور اور سکھر کے علاقوں میں آپریشن کیا جائے گا، جس کے لیے پولیس نے مطالبہ کیا کہ 3 نئی بکتر بندگاڑیاں اور جدید اسلحہ 24 گھنٹوں میں فراہم کیا جائے۔

سندھ میں گورنر راج سے متعلق شیخ رشید احمد کا اہم بیان

بریفنگ میں کہا گیا کہ گڑھی تیغو کے کچے میں پاک فوج یا رینجرز کی ضرورت نہیں، سندھ پولیس ڈاکوؤں کے مکمل خاتمے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس وقت گڑھی تیغو میں 50 سے زائد ڈاکو موجود ہیں، ڈی آئی جی لاڑکانہ نے فائٹنگ اے پی سی کا بھی مطالبہ کیا۔

دریں اثنا، کچے کے علاقے میں پانچویں روز بھی آپریشن جاری رہا، گڑھی تیغو شہر میں پولیس نے لاؤڈ اسپیکر سے لوگوں کوگھروں سے نہ نکلنے کے اعلانات کیے، گڑھی تیغو میں بازار، دکانیں بند، اور کرفیو جیسی صورت حال رہی جب کہ لوگ گھروں تک محدود رہے۔

سی ٹی ڈی کی 28 مجرمان کے سروں کی قیمت طے کرنے کی سفارش

پولیس آپریشن کے دوران ایک مغوی کو بازیاب کرایا گیا، پولیس حکام نے بتایا کہ تمام کچے کے علاقوں کو مورچے لگا کر سیل کر دیا گیا ہے، اس آپریشن میں پولیس کے ٹیکنیکل شعبے کی بھی مدد حاصل کی جا رہی ہے، پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، اور ان کا گھیراؤ تنگ کر لیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں