The news is by your side.

Advertisement

بچی کو کروز شپ سے گرانے والے شخص کو سزا، دل دہلا دینے والی ویڈیو بھی سامنے آگئی

امریکی ریاست انڈیانا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو اپنی پوتی کو بحری جہاز کی گیارہویں منزل سے گرانے کے جرم میں 3 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

یہ واقعہ جولائی 2019 میں پیش آیا جب انڈیانا سے تعلق رکھنے والا ایک خاندان رائل کیربیئن کمپنی کے بحری جہاز پر سفر کرنے کے لیے روانہ ہوا، واقعے کے وقت جہاز جزیرہ پورٹو ریکو میں تھا۔

واقعہ اس وقت پیش آیا جب 51 سالہ سالویٹور سام انیلو اپنی 18 ماہ کی پوتی کو گود میں لے کر گیارہویں منزل پر واقع پلے ایریا کی کھڑکی پر کھڑے تھے، جب اچانک بچی ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جا گری۔

بچی جہاز کے کنکریٹ سے بنے عرشے پر گری جہاں گرتے ہی اس کی موت واقع ہوگئی۔ دادا کو غفلت برتنے کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا اور گزشتہ ڈیڑھ سال سے مقدمے کی کارروائی جاری تھی۔

عدالتی کارروائی کے دوران دادا مسلسل کہتے رہے کہ انہیں بچوں کے پلے ایریا میں کھڑکی کے کھلے ہونے کا بالکل پتہ نہیں تھا، اور انہوں نے بچی کو دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر کھڑکی تک اس لیے پہنچایا تھا کہ تاکہ وہ شیشے پر انگلی سے بجا سکے، ایسا وہ پہلے بھی کرتی رہی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ واقعے کے وقت نشے میں نہیں تھے، وہ کلر بلائنڈ ہیں یعنی انہیں رنگ نظر نہیں آتے، اس لیے وہ جان نہیں سکے کہ کھڑکی کا شیشہ کھلا ہوا تھا۔

اس دوران بچی کے والدین نے رائل کیربیئن کمپنی کے خلاف غفلت کا مقدمہ بھی درج کر دیا تھا، اس کے جواب میں رائل کیربیئن کا کہنا تھا کہ سرویلنس کیمرے کی فوٹیج سے علم ہوتا ہے کہ انیلو نے بچی کو اوپر اٹھانے سے پہلے تقریباً 8 سیکنڈز تک کھڑکی سے جھانکا تھا، اس کے بعد انہوں نے 34 سیکنڈز تک بچی کو کھلی کھڑکی میں تھامے رکھا۔

تاہم خاندان کا کہنا تھا کہ انیلو کے لیے جسمانی طور پر یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ اس طرح کھڑکی سے جھانکتے۔

اب ایک تکلیف دہ اور طویل کارروائی کے بعد عدالت نے انہیں 3 سال کی سزا سنا دی ہے تاہم یہ سزا جیل میں نہیں ہوگی، عدالت نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے انہیں 3 سال کے پروبیشن پر بھیجا ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ عرصہ وہ ایک کمیونٹی سینٹر میں گزاریں گے۔

گو کہ انیلو کا اصرار تھا کہ یہ واقعہ صرف ایک حادثہ تھا تاہم اس کے بعد انہوں نے اپنا ارادہ بدلتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے خاندان کو مزید تکلیف سے بچانے کے لیے قتل خطا کا الزام قبول کر لیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ عدالتی کارروائی ختم ہونے کے بعد بالآخر ان کا خاندان سکون کی سانس لے گا جبکہ اس غم سے نمٹنے کے لیے بھی کوششیں کرسکے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں