The news is by your side.

Advertisement

کراچی کے قبرستانوں‌میں‌گورکن مافیا بے لگام، عوام پریشان

کراچی : موثر بلدیاتی نظام نہ ہونے کے باعث کراچی کے قبرستانوں میں گورکن مافیا بے لگام ہوگئی ہے، گورکن ،پولیس اور بلدیاتی اہلکاروں کی ساز باز نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے معروف قبرستانوں جن میں سخی حسن، عیسیٰ نگری، لیاقت آباد سی ون ایریا، شاہ محمد قبرستان شامل ہیں میں قبر کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف بنا دیا گیا ہے۔

post-2

کے ایم سی انتظامیہ کی جانب سے کوئی ٹھوس نظام نہ ہونے کی وجہ سے گورکن مافیا بے لگام ہو گئی ہے اور قبروں کے منہ مانگے دام وصول کر رہے ہیں جس میں مبینہ طور پر بلدیہ کے کچھ افسران اور پولیس کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے جس کے باعث شہریوں کو دوہری پریشانی کا سامنا ہے۔

post-1

شہر کے وہ قبرستان جن میں نئی قبر کے لیے جگہیں موجود ہے وہاں گورکن زیادہ زیادہ قبریں کھپانے کے چکر میں تنگ جگہ پر بھی قبریں کھود دیتے ہیں اور اگر برابر والی قبر کے ورثاء احتجاج کریں تو تنگ جگہ پر کھودی گئی قبر کو دوبارہ بند کرنے کے لئے 1500 سے 2000 روپے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

post-4

دوسری جانب سخی حسن قبرستان، عیسی نگری قبرستان سی ون ایریا لیاقت آباد کے قبرستانوں میں جگہ نہ ہونے کے باعث انتظامیہ نے نئے قبریں بنانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے اس کے باوجود وہاں کےگورکن خطیر رقم کے عوض کسی پرانی قبر کو کھود کر نئے مردے کو دفنانے پر راضی ہو جاتے ہیں

اس سلسلے میں گورکن ایسی قبروں پر نظر رکھتے ہیں جن کے لواحقین حاضری کے لیے نہیں آتے اور موقع دیکھتے ہی کسی نئے مردے کو پرانی قبروں میں دفنادیا جاتا ہے جس کے لیے 25000 سے 5000 تک رقم وصول کی جاتی ہے ۔

اس لیے اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ اہل علاقہ اپنے پیاروں کی قبر پر حاضری دینے جاتے ہیں تو ان کے عزیز کی قبر کی جگہ کسی اور کی قبر ملتی ہے۔

جس پر غم زدہ عوام اپنی روداد لے کر انتظامیہ اور پولیس کے پاس جاتے ہیں جس پر بھی کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور عوام رو دھو کر صبر کرلیتے ہیں۔

اس کے علاوہ کچھ قبرستانوں کےگورکن قبروں سے مردے نکال کر فروخت کرنا، یا مردے کے بال و دیگر اعضاء کی فروخت کے مکروہ عمل میں پائے گئے ہیں جب کہ قبرستان میں جادو ٹونا کرنے والوں کو تحفظ اور سہولیات کی فراہمی کی بھی شکایات عام ہیں

post-1

انتظامیہ کو چاہئے کہ سخی حسن ، محمد شاہ و دیگر قبرستانوں میں ہونیوالے ان واقعات کا نوٹس لے کر شہر کے قبرستانوں کو منظم نظام سے جوڑا جائے اور ایسا نظام متعارف کرایا جائے جس میں شہری گورکن مافیا کے رحم و کرم پر نہ رہیں اور اپنے پیاروں کی تجہیز و تدفین بہتر طریقے سے کر پائیں اور اس مد میں شہریوں کی جانب سے ادا کی گئی فیس حکومت کے خزانے میں جمع ہو نا کہ کسی مافیا کی نذر ہو جائے۔

علاوہ ازیں اہل علاقہ نے سندھ حکومت اور میئر کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ انصاف فراہم کیا جائے ورنہ احتجاج پر مجبور ہونگے اور ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

یاد رہے کہ چند روز قبل یاسین آباد قبرستان سے بھی عزیز آباد پولیس نے گورکن کو مردے نکال کر فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار بھی کیا تھا تا ہم پولیس کی جانب سے کمزور کیس داخل کرنے پر ملزم جلد ہی ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا جس سے گورکن اور پولیس کے ساز باز کا ثبوت ملتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں