The news is by your side.

Advertisement

عقبہ بن نافع، قیروان شہر اور مسجد

جامع القیروان الاکبر تیونس کی قدیم مساجد میں سے ایک ہے جسے مسجد عقبہ بن نافع بھی کہتے ہیں۔

قیروان شہر کی بنیاد عقبہ بن نافع نے رکھی تھی اور تاریخ کے اوراق میں لکھا ہے کہ شہر کے ساتھ ہی اس نے مسجد کا سنگِ بنیاد بھی رکھ دیا تھا۔ یہ سن 670 عیسوی کی بات ہے اور آج قیروان کا شمار تیونس کے جدید اور مشہور شہروں میں‌ ہوتا ہے۔

اس قدیم مسجد کا رقبہ 9000 مربع میٹر ہے جسے ایک زمانے میں جامعہ کا درجہ حاصل تھا۔ کہتے ہیں اس مسجد کے احاطے میں دینی اور دنیوی تعلیم دینے کے لیے اس دور کی قابل اور اہم مذہبی شخصیات کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔

اس شہر پر بربروں نے یلغار کی تو یہاں ہر طرف تباہی پھیل گئی اور کئی اہم عمارتوں‌ کو شدید نقصان پہنچا جس میں مساجد اور مدارس بھی شامل تھے۔

تاریخ میں ہے کہ مختلف ادوار میں اس مسجد کی تعمیر و مرمت اور توسیع کا کام بھی ہوتا رہا اور اس کے موجودہ ڈھانچے کو غلبی خاندان کا کارنامہ بتایا جاتا ہے۔ مسجد کی تعمیر کو دو سو سال گزرے تو مختلف فرماں رواؤں نے اس میں مرمت و توسیع کا کام کروایا، اور ضرورت کے مطابق ستونوں کا اضافہ، منبر و محراب کی تزئین و آرائش، صحن کو وسعت دی جاتی رہی، مگر بنیادی ڈھانچہ وہی رہا جو اغلبیوں نے تعمیر کروایا تھا۔

یہ مسجد قلعہ نما ہے۔ اس کی دیواریں موٹے پتھروں سے تعمیر کی گئی ہیں۔ صحن کے درمیان ایک تالاب ہے جس میں بارش کا پانی نتھر کر ایک زیرِ زمین مخصوص جگہ پر ذخیرہ ہوجاتا تھا اور بعد میں اسے استعمال کیا جاسکتا تھا۔

مسجد کا منبر مضبوط لکڑی کا بنا ہوا ہے اور آج بھی کئی سو صدی پرانا یہ منبر اسی حالت میں دیکھا جاسکتا ہے۔ مسجد کا مینار بھی گیارہ سو سال سے اسی شان اور وقار سے قائم ہے۔

آج بھی قدیم مقامات اور تاریخی عمارتیں دیکھنے کا شوق رکھنے والے جب تیونس پہنچتے ہیں، تو قیروان شہر کی یہ مسجد ضرور دیکھنے جاتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں