The news is by your side.

Advertisement

دیوار چین کی اینٹوں میں کیا چیز ملائی گئی تھی؟ جان کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے

بیجنگ : دیوار چین تمام عجائبات عالم میں سے انسانی ہاتھوں سے تراشی گئی دنیا کی طویل ترین تعمیر ہے۔ دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دینے والی یہ دیوار گزرتے وقت کی بے مہری کا شکار ہو کر زبوں حال ہوتی جا رہی ہے۔

دیوار چین کی مظبوطی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی اینٹوں میں جو مٹیریل استعمال کیا گیا ہے اس سے ان اینٹوں کی مظبوطی اور پائیداری میں بے پناہ اضافہ ہوا۔

آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ ان اینٹوں کی تیاری میں چاولوں کا خصوصی طور پر استعمال کیا گیا تاکہ ان میں مزید مظبوطی پیدا ہو اور دیوار بہت لمبے عرصے تک قائم و دائم رہے۔

دیوار چین کی مضبوطی کا راز شاید چاول میں پوشیدہ ہے کیونکہ تحقیق کے بعد یہ معلوم ہوا کہ چاول میں موجود نشاستہ اور دیگر اہم اجزاء اس دیوار کی اینٹوں میں پائے گئے ہیں۔

اس دیوار میں منگ بادشاہ کے دور کا تعمیر کردہ حصہ آج تک بہترین حالت میں ہے، جس کی کل لمبائی 5ہزار کلو میٹر سے زائد ہے اسی دور میں دیوار میں لگائی گئی اینٹوں میں پکے ہوئے گیلے چاول اور لیموں کا پانی استعمال کیا گیا تھا۔

بعض حوالوں میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان اینٹوں کے گارے میں چاول کا آٹا بھی ملایا گیا تھا، اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ چینی راج اور ماہرین چاول کی مضبوطی اور تعمیرات میں اس کے استعمال کے قائل تھے۔

اس حوالے سے زیجیانگ یونیورسٹی کے سائنسدان بن جیان زینڈ نے دوران تحقیق ان اینٹوں کو الیکٹرک خودر بین کی مدد سے دیکھا تو ان میں امائلو پبکٹن کے آثار ملے یہ چیز سیمنٹ اور گارے کو آپس میں مضبوطی سے جوڑے رکھتا ہے۔

۔8851کلومیٹر طویل اس عظیم دیوار کا 30 فیصد حصہ وقت کےساتھ ساتھ غائب ہوچکا ہے ۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اس دیوار کی تباہی میں

سب سے بڑا ہاتھ ان دیہاتیوں کا ہے جو اس دیوار کے دامن میں آباد ہیں۔

یہ مقامی لوگ دیوار میں لگی مضبوط اور موٹی اینٹیں نکال کر اپنے گھر تعمیر کرتے ہیں۔ دیوار کی چوری شدہ اینٹیں فروخت بھی کی جاتی ہیں۔ اینٹوں کی مسلسل چوری کے باعث دیوار کو نقصان پہنچ رہا ہے اور وہ کئی جگہ سے خستہ حال ہوتی جارہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں