The news is by your side.

Advertisement

یونان میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ

ایتھنز : ترکی سے غیر قانونی طریقوں سے یونان جانے والے مہاجرین کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر تیزی سے اضافہ ہونے لگا، تارکین وطن سمندری راستے پر سختی کے باعث زمینی راستے سے یورپ جانے لگے۔

تفصیلات کے مطابق غیر قانونی طریقوں سے ترکی کی سرحد کو استعمال کرتے ہوئے یونان جانے والے تارکین وطن کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ہونے لگا، یونانی حکام کا کہنا تھا کہ بحیرہ ایجئین پر سختی کے باعث تارکین وطن نے خشکی کے راستے بارڈر کراس کرنا شروع کردیا۔

تارکین وطن کو غیر قانونی طریقے سے یونان میں داخل ہوتے دیکھنے والے یونانی کسان کا کہنا تھا کہ ’کیچڑ اور مٹی میں لتپت تارکین وطن کا گروہ ترکی اور یونان کی متصل کھیت سے گزرا ہے۔

یونانی کسان کا کہنا تھا کہ مذکورہ گروپ شامی تارکین وطن کا تھا، میرے لیے تارکین وطن کو غیر قانونی طریقوں سے یونان میں داخل ہوتا دیکھنا روز کا معمول ہے۔

واضح رہے کہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ناجائز طریقوں سے یونان پہنچنے والے تارکین وطن کی زیادہ تر تعداد شامی مہاجرین کی ہے جن کا تعلق شام کے شمالی صوبے عفرین سے ہے۔ جو ترک افواج کی جانب سے عفرین میں کی جانے والی فوجی کارروائی کی وجہ سے اپنے گھروں سے ہجرت کرکے یورپ کی طرف جارہے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل مہاجرین بحیرہ ایجئین کے ذریعے مختصر سمندری سر طے کرتے ہوئے یونان پہنچتے تھے اور پھر شمالی اور مغربی یورپی ممالک میں منتقل ہوجاتتے تھے، یورپ میں کے رکن ملک جرمنی میں تارکین وطن کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے۔

اقوام متحدہ کے تارکین وطن کے حوالے کام کرنے والے ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام اور عراق سے تعلق رکھنے والے تقریباً 3 ہزار سے زائد مہاجرین خشکی کے راستے سے یونان پہنچ چکے ہیں

یورپی سرحدی سیکیورٹی ایجنسی کی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ یہ بات کہنا قبل وقت ہوگا کہ مہاجرین کی تعداد میں اضافے کا سبب کیا ہے، یا واقعی تارکین وطن سمندر کی جگہ خشکی کے راستے کے استعمال کو ترجیج دے رہے ہیں۔

یونان جانے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کے باعث مقامی کسانوں نے مہاجرین کو مہیا کرنے کے لیے پانی اور بسکٹ کا بندوبست کررکھا ہے، جبکہ کھانے کے بعد یونانی شہر تھیسالونیکی جانے کے لیے بھی ہدایات دی جاتی ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں