The news is by your side.

Advertisement

یونان : فوجی انقلاب کا مطالبہ کرنے والا رکن پارلیمنٹ گرفتار

ایتھنز : یونان کے سیکیورٹی اداروں نے دائیں بازو کی سیاسی جماعت کے شدت پسند رکن پارلیمنٹ کو ملک میں فوجی انقلاب اور حکام بالا کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یورپی یونین کے رکن ملک یونان کے سیکیورٹی اداروں نے دو روز قبل دائیں بازو کے ایک انتہا پسند رکن پارلیمنٹ کو ملک میں فوجی انقلاب کا نعرہ لگانے کے جرم میں گرفتار کرکے تھانے منتقل کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ یونان کی دائیں بازو کی سیاسی تنظیم ’گولڈن ڈان‘ کے ممبر اور رکن پارلیمنٹ ’بابیروسس‘ نے یونانی حکومت کی جانب سے مقدونیا کا نام تبدیل کرنے کا معاہدہ طے پانے کے بعد حکومت پر عدم اعتماد کی تجویز کے مباحثے کے دوران فوجی انقلاب کا مطالبہ کیا تھا۔

یونانی پارلیمنٹ کے ممبر بابیروسس نے دوران مباحثہ تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یونان کے ٹکڑے ہونے کا آغاز ہوگیا ہے، لہذا عسکری قیادت کو ملک کے وزیر اعظم، وزیر دفاع اور صدر کو گرفتار کرلینا چاہیئے‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق رکن پارلیمنٹ نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’سیاسی قیادت ریاست کے مفادات کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کے لیے امور انجام دے رہے ہیں، اس لیے فوجی انقلاب ضروری ہے‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ دائیں بازو کی سیاسی جماعت گولڈن ڈان نے باربیروسس کی جانب سے فوجی انقلاب اور سربراہان مملکت کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے پر پارٹی سے بے دخل کردیا ہے۔

یونان کے عدالتی ذرائع کا کہنا تھا کہ استغاثہ نے رکن پارلیمنٹ کی گرفتاری پر تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ بابیروسس کے بیان میں غداری شامل تھی یا نہیں۔

خیال رہے کہ مقدونیا کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر 17 جون کو دستخط ہوئے تھے جس کے بعد ’یوگو سلاویہ‘ کی سابقہ ریاست کا نام تبدیل کرکے ’جمہوریہ شمالی مقدونیا‘ رکھا گیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں