The news is by your side.

Advertisement

ہزاروں سال قبل یونانی ’لیپ ٹاپ‘ استعمال کرتے تھے؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ لیپ ٹاپ ابھی حال ہی کی ایجاد ہے اور پہلا لیپ ٹاپ 1971 میں بنایا گیا تھا‘ کچھ ماہرین کے خیال میں آج سے ہزاروں سال قبل یونانی لیپ ٹاپ کا استعمال کرتے رہے ہیں۔

تصوراتی اور مابعد الطبعیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ یونان اور مصر کے اہل فن سائنس کے میدان میں ہم سے ہزارہا گنا آگے تھے اوراپنے اس دعوے کا وہ تاریخی حوالہ جات کے ذریعے ثبوت بھی دیتے ہیں۔

oracle-post-1

یونان سے تعلق رکھنے والے سو سال قبل مسیح کے ایک مجسمے نے تاریخ دانوں میں بحث کا ایک نیا باب کھول دیا ہے ‘ مابعد الطبعیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مجسمے میں خاتون کو واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھ میں ایک لیپ ٹاپ لیے ہوئے ہے۔

مورخین اس بات پر بضد ہیں کہ تصویر میں نظرآنے والے مجسمے کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ نہیں بلکہ یہ شے یا تو کوئی جیولری بکس ہے یا پھر مومی تختی جسے قدیم یونان کے لوگ اپنی تحریریں لکھنے کےلیے استعمال کیا کرتے تھے۔

پتھر کے دور میں دانتوں کی تکلیف کا علاج کیسے؟

 دوسری جانب وہ ماہرین جو کہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ دورِ قدیم کا انسان کسی بھی صورت ہم سے زیادہ ترقی یافتہ تھا وہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ شے درحقیقت ایک لیپ ٹاپ ہی ہےجبھی اس کی سائیڈ میں دو سوراخ موجود ہیں جو کہ یقیناً یو ایس بی یا اس سے مشابہہ کسی اور ڈیوائس کے لیے استعمال کیے جاتے ہوں گے۔

oracle-post-4

oracle-post-2

ان کا کہنا ہے کہ اس مجسمے میں موجود لیپ ٹاپ نما شے نہ تو کسی مومی تختی سے مماثل ہے ( یونان سے ملنے والی کسی مومی تختی کی سائیڈ پر سوراخ نہیں ملے) اور نہ ہی یہ کوئی جیولری بکس ہے۔وہ دلیل دیتے ہیں کہ مجسمے میں موجود خاتون کی آنکھوں کا فوکس عین اس جگہ ہے جہاں لیپ ٹاپ کی اسکرین کا سنٹر ہوتا ہے اور وہ اپنی انگلی سے جس انداز میں اسے چھو رہی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کوئی ٹچ اسکرین شے استعمال کررہی ہے ۔ اگر یہ جیولری بکس ہوتا تو خاتون کی نگاہیں سطح پر موجود جیولری پر مرکوز ہوتیں ناکہ اس شے کے اٹھے ہوئے حصے پر جیسا کہ مجسمے میں واضح دیکھا جاسکتا ہے۔

oracle-post-3

مابعد الطبعیاتی ماہرین نے لیپ ٹاپ کو ’اوریکل آف ڈیلفی ‘ نامی تاریخی کردار قراردیا ہے جس کے ذریعے اس قدیم دور کے پجاری خدا‘ خلائی مخلوق یا مستقبل سے آںے والوں سے رابطہ کیا کرتے تھے۔ محققین کے نزدیک پائیتھیا نامی ایک حسین لڑکی ڈیلفی کے مندر میں اوریکل (غیبی آواز ) کا مرکز تھی اور اسی کے ذریعے پجاری خدا سے رابطہ کیا کرتے تھے۔

مابعد الطبعیاتی ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اوریکل نامی مشہور لیپ ٹاپ بنانے والی کمپنی کو یہ خیال کیوں آیا کہ وہ ایک ایسی شے کو اپنے نام کے طور پراختیار کرے جو کہ سائنسی عقائد سے بالکل الگ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ من وعن ایسا ہی ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ سائنسدان اور مورخین ہمارے پیش کردہ دلائل پر بھی کام کریں تاکہ ان کا مدلل جواب دیا جاسکے ۔

ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ قدیم دور میں مستقبل بعید میں آنے والی کسی ٹیکنالوجی کا ٹائم ٹریلولرز کے ذریعے استعمال خارج از امکان نہیں ہے۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں