برفانی علاقے تباہی کی جانب گامزن -
The news is by your side.

Advertisement

برفانی علاقے تباہی کی جانب گامزن

قطب شمالی کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے برفانی مقام گرین لینڈ کی برف پگھلنے میں خطرناک اضافہ ہوگیا ہے جس نے ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

جریدے سائنس ایڈوانس میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گرین لینڈ میں سنہ 2003 سے 2013 تک 2 ہزار 700 ارب میٹرک ٹن برف پگھل چکی ہے۔ ماہرین نے اس خطے کی برف کو نہایت ہی ناپائیدار قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے پگھلنے کی رفتار میں مزید اضافہ ہوگا۔

greenland-4

واضح رہے کہ اتنی بڑی مقدار میں برف پگھلنے کی وجہ گلوبل وارمنگ یعنی عالمی درجہ حرات میں اضافہ ہے۔

اس سے قبل بھی عالمی سائنسی ادارے ناسا نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں قطب شمالی کے سمندر میں پگھلتی ہوئی برف کو دکھایا گیا تھا۔ ناسا کے مطابق رواں برس مارچ سے اگست کے دوران قطب شمالی کے سمندر میں ریکارڈ مقدار میں برف پگھلی۔

مزید پڑھیں:

قطب شمالی کی برف گلابی کیوں ہو رہی ہے؟

برفانی سمندر پر پیانو کی پرفارمنس

برفانی خطوں میں جھیلوں کی موجودگی کا انکشاف

ناسا کے ماہرین کے مطابق سنہ 2016 ایک گرم سال تھا جس نے دنیا بھر میں اپنے منفی اثرات مرتب کیے۔ رواں برس مئی اور جولائی کے مہینہ میں درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کلائمٹ چینج یا موسمیاتی تغیر کا اثر برفانی علاقوں پر پڑ رہا ہے۔ شدید گرمی کے باعث یہاں موجود گلیشیئرز کی برف پگھلنی شروع ہوگئی ہے جس سے ایک تو سطح سمندر میں اضافے کا خدشہ ہے، دوسری جانب یہاں پائی جانے والی جنگلی حیات جیسے برفانی ریچھ وغیرہ کی بقا کو بھی سخت خطرات لاحق ہیں۔

bear-6

رپورٹس کے مطابق سال 2016 میں گرمیوں کے موسم کے درجہ حرارت میں تو اضافہ ہوا ہی، مگر اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ برس کا موسم سرما بھی اپنے اوسط درجہ حرارت سے گرم تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں