The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کی وبا پر مکمل قابو پانے والا دنیا کا پہلا ملک

نوک: کینیڈا کے آرکٹک اور بحراوقیانوس کے درمیان میں واقع جزیرہ پر موجود ملک گرین لینڈ نے کرونا وائرس کی وبا پر مکمل قابو پالیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق گرین لینڈ کی حکومت نے کرونا کیسز رپورٹ ہونے کے بعد سخت اقدامات کیے جس کی وجہ سے وہاں وبا پھیل نہ سکی اور کم ہی لوگ متاثر ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق گرین لینڈ میں کرونا کے گیارہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے البتہ اب تمام مریض صحت یاب ہیں اور وہاں کوئی بھی متاثرہ شخص موجود نہیں ہے۔

حکومت نے پہلا کیس رپورٹ ہونے کے بعد سنجیدہ اقدامات کیے اور 844 شہریوں کے ٹیسٹ بھی کیے تھے۔ کرونا کے تمام کیسز دارالحکومت نوک سے ہی رپورٹ ہوئے تھے، اس شہر کی آبادی 18 ہزار سے زائد ہے۔

مزید پڑھیں: کرونا وائرس: چین نے خشک خوبانی اور کشمش استعمال کر کے وائرس کو شکست دی؟

گرین لینڈ کی کُل آبادی 57 ہزار ہے اور وہاں طبی سہولیات کا نظام بھی اتنا مضبوط نہیں جتنا دنیا کے دیگر ممالک میں ہے۔ حکومت نے پہلا کیس سامنے آنے کے بعد تمام شہروں کو مکمل لاک ڈاؤن کرتے ہوئے داخلی و خارجی راستے مکمل بند کیے.

علاوہ ازیں سرحدوں کو بھی سیل کیا گیا تاکہ وائرس کی وبا کو کنٹرول کیا جاسکے۔ حکومت نے ہوائی سفر، بحری جہاز کی آمد و رفت کو بھی روک دیا تھا اور شہریوں کو ہدایت کی تھی کہ انہیں گرین لینڈ میں خصوصی اجازت کے بعد داخلے یا باہر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق گرین لینڈ مین 18 ویں اور انیسویں صدی میں جان لیوا امراض پھوٹ پڑے تھے جس کے بعد صورت حال خوفناک ہوگئی تھی، حکومت نے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے کرونا وائرس کو سر اٹھانے سے پہلے ہی اُسے کچل دیا۔

وزیر صحت ورزینگ اولس نے بتایا کہ ’حکومت کی جانب سے نافذ کیا جانے والا لاک ڈاؤن ایک سال تک برقرار رہ سکتا ہے کیونکہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ زیادہ مریضوں کو سنبھال سکیں، اس لیے وائرس کو پھیلنے کا موقع نہیں دے سکتے اور سختیوں کے سلسلے کو جاری رکھیں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس: قبل ازوقت ظاہر ہونے والی 8 بڑی علامات

اُن کا کہنا تھا کہ حکومت نے سوچ بچار شروع کردی ہے کہ جب تک کرونا کا مستند علاج یا ویکسین دیارفت نہیں ہوتی شہروں کو لاک ڈاؤن ہی رکھا جائے گا، شہری کم سے کم ہی گھروں سے نکلیں گے’۔

گرین لینڈ کے واحد اسپتال کوئین انگریڈ ہاسپٹل کے ڈاکٹر جیرٹ مولوڈ نے خدشہ ظاہر کیا کہ ’اگر ویکسین کی دستیابی سے پہلے لاک ڈاؤن ختم کردیا گیا تو اندازے سے زیادہ نقصان ہوسکتا ہے، ہم نظام صحت اور شہریوں کو بچانا چاہیے ہیں اسی لیے قرنطینہ میں رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں