جمعرات, فروری 12, 2026
اشتہار

فون پر وزیر اعظم اسٹارمر کا ٹرمپ سے گرین لینڈ کے معاملے پر کھل کر اختلاف

اشتہار

حیرت انگیز

لندن (19 جنوری 2026): برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ گرین لینڈ کے معاملے پر دباؤ نہیں، سفارت کاری اختیار کریں۔

روئٹرز کے مطابق برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر گفتگو کی، جس میں انھوں نے امریکی صدر سے کھل کر اختلاف کیا اور کہا کہ نیٹو اتحادیوں پر ٹیرف لگانا ’’غلط‘‘ ہوگا۔

اس سے قبل وہ ڈنمارک، یورپی یونین اور نیٹو کے رہنماؤں سے بھی بات کر چکے تھے، اسٹارمر نے کہا کہ ان کے نزدیک ’’نیٹو کے اتحادیوں کی مشترکہ سلامتی کے حصول کے لیے کام کرنے پر اتحادی ممالک پر محصولات (ٹیرف) عائد کرنا غلط ہے۔‘‘

ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اسٹارمر نے ڈنمارک کی وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن، یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈیر لاین اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس کے بعد انھوں نے صدر ٹرمپ سے بات کی۔

ٹرمپ آئندہ ہفتے خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کرینگے، سابق امریکی سفیر

ترجمان کے مطابق ’’اپنی تمام گفتگوؤں میں وزیرِ اعظم نے گرین لینڈ کے حوالے سے اپنا مؤقف دہرایا۔ انھوں نے کہا کہ یورو-اٹلانٹک مفادات کے تحفظ کے لیے شمالی خطے (ہائی نارتھ) کی سلامتی تمام نیٹو اتحادیوں کے لیے ایک ترجیح ہے۔‘‘

میڈیا رپورٹس کے مطابق کیئر اسٹارمر نے گرین لینڈ کی خود مختاری کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ممالک پر ٹیرف لگانا ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایکس پر اسٹارمر نے لکھا کہ نیٹو کے اتحادیوں کی اجتماعی سلامتی کے اقدامات پر انھیں سزا دینا سراسر غلط ہے۔

انھوں نے کہا گرین لینڈ ڈنمارک کی سلطنت کا حصہ ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کو کرنا ہے، آرکٹک خطے کی سلامتی پورے نیٹو کے لیے اہم ہے، اتحادیوں کو باہمی تعاون سے خطرات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں