The news is by your side.

Advertisement

چار سو سالہ قدیم قبرستان اور ہیری پوٹر ناول میں کیا تعلق ہے؟

ایڈنبرا: آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اسکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا میں ایک ایسا قدیم قبرستان ہے جہاں سے دنیا بھر میں شہرت کی بلندیاں حاصل کرنے والے ناول ہیری پوٹر کے کئی کرداروں کے نام ملے۔

ایڈنبرا میں ایک چرچ ہے جس کا نام ہے گرے فرائرز کِرک (Greyfriars Kirk)، اس کے پاس واقع چار سو سالہ قدیم قبرستان گرے فرائرز کرکیارڈ میں ایسے لوگ دفن ہیں، ہیری پوٹر کی مصنفہ جے کے رولنگ جن کے ناموں سے متاثر ہوئیں اور ان ناموں کو انھوں نے ناول کے اہم کرداروں کے لیے استعمال کیا۔

یہ قبرستان ایک کتے کی وجہ سے بھی مشہور ہے جس کا نام بوبی تھا اور اب اسے گرے فرائرز بوبی کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ ایک وفادار کتا تھا، 162 سال قبل جس نے ایسا کام کیا جس نے اس کی شہرت کو ادبی کہانیوں تک پہنچا دیا اور اب یہ اسکاٹش تاریخ کا ایک اہم کردار ہے۔

گرے فرائرز بوبی کا مجسمہ جسے دیکھنے ہر سال ہزاروں سیاح آتے ہیں

کہا جاتا ہے کہ اس کتے نے گرے فرائرز چرچ کے احاطے میں اپنے مالک جون گرے کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر 14 سال تک پہرہ دیا تھا، 1872 میں اپنی موت تک یہ کتا اس قبر پر سوگ میں ڈوبا رہا، اور پھر اسے بھی اسی قبرستان میں دفن کر دیا گیا، اس پر کتابیں لکھی گئیں، فلمیں بنائی گئیں، ہزاروں سیاح اس کے دیدار کو آتے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جے کے رولنگ کو اپنے ناولز کے کئی کرداروں کے ناموں کا خیال قبرستان میں کتبوں کو دیکھ کر آیا، اور اب لوگ بوبی کو ہی نہیں بلکہ ہیری پوٹر ٹورز میں سیاحوں کو ’تھامس رڈل‘ کی قبر پر بھی لے جایا جاتا ہے، جو ایک حقیقی شخص تھا جس کا نام ہیری پوٹر کے لیے مستعار لیا گیا۔

تھامس رڈل کی قبر کا کتبہ

ٹام رڈل ہیری پوٹر سیریز میں لارڈ وولڈیمورٹ کا دوسرا نام ہے، یہ نام 1806 میں مرنے والے تھامس رڈل کی قبر کے کتبے سے لیا گیا، اسکاٹ لینڈ کے بدترین شاعر کی ساکھ رکھنے والے ولیم میکگوناگال بھی اسی قبرستان میں دفن ہیں، اس نام کو ہوگ وَرٹس کے گریفینڈر اسکول کی سربراہ پروفیسر منروا میکگوناگال کے نام کے لیے استعمال کیا گیا، دوسرے کتبوں سے ایلیسٹر ’میڈ آئی‘ موڈی اور روفس اسکریمجر کے ناموں کا خیال آیا، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہیری پوٹر کے والدین کی گوڈرکس ہولو میں آخری آرام گاہ کا خیال بھی اسی چرچ کے قبرستان سے آیا۔

اس قبرستان میں مردوں کی تدفین کا آغاز سولہویں صدی میں ہوا تھا، یہاں بلڈی میکنزی کے نام سے بھی ایک قبر ہے، جس نے اسی قبرستان سے جنم لینے والی شاہ برطانیہ کے خلاف بغاوت کو کچلا تھا، اور 1679 میں قبرستان کے ایک حصے کو باغیوں کے لیے قید خانہ بنا دیا گیا تھا، انھیں 18 ہزار افراد کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے، اسی لیے ان کی قبر کا آج تک کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں