مارکونی کی عمر ستائیس سال کی تھی جب اُس نے 1901ء میں لاسلکی پیغامات یورپ سے امریکہ بھیجنے کا پہلا کامیاب تجربہ کیا۔ اس نے ایک مرکز کارنوال (انگلستان) میں بنایا اور دوسرا سینٹ جان (نیو فونڈ لینڈ امریکہ) میں۔ کارنوال سے بجلی کے ذریعے جو اشارے بھیجے گئے وہ سینٹ جان میں پہنچ گئے حالانکہ بیچ میں تار کا کوئی سلسلہ موجود نہ تھا اور تین ہزار میل چوڑا سمندر بھی رکاوٹ نہ بن سکا۔
اس سے واضح ہو گیا کہ کرّۂ ارض کا خم بجلی لہروں کو روک نہیں سکتا اور تار کے بغیر دنیا کے ہر حصّے میں پیغام رسانی کا سلسلہ جاری کر دینا ایک مثبت حقیقت بن گیا۔
گگلی ایلمو مارکونی دولت مند والدین کا بیٹا تھا۔ اس کی تعلیم کا انتظام زیادہ تر گھر پر ہوا برقیات سے اسے خاص دلچسپی تھی۔ ہینرچ برٹز نے بجلی اور مقناطیس کی لہریں دریافت کر لیں تو یہ دریافت مارکونی کے سمند شوق کے لیے تازیانہ بن گئی۔ اس نے تجربات کے بعد نیا آلہ تیار کر لیا جو پہلے سائنس دانوں کے آلوں سے بہتر تھا۔ بائیس سال کی عمر میں اس نے ایک ایسی مشین ایجاد کرلی جس کے ذریعے بغیر تار کے دو میل کے فاصلے پر پیغامات بھیجے جا سکتے تھے۔ اس کے اہل وطن نے اس ایجاد کی کوئی قدر نہ کی، لہٰذا وہ انگلستان چلا گیا، جہاں اسے قدر دان انجینیئروں کے مل جانے کی امید تھی۔ وہاں اسے صرف روپیہ ہی نہ ملا سائنس دانوں کی تائید و حمایت بھی حاصل ہو گئی اور اپنی ایجاد کو زیادہ سے زیادہ ترقی دینے کا موقع مل گیا۔
مارکونی کے سامنے کلارک میکسویل اور ہینرچ ہرٹز کی نظری تحقیقات موجود تھی جس میں ریڈیائی لہروں کی حقیقی حیثیت واضح کی گئی تھی۔ مارکونی نے اس نظری تحقیقات کو عملیات کی سطح پر پہنچا دیا۔ اس کی ایک خوش نصیبی یہ تھی کہ جب سے اس نے اپنی تحقیقات کو برقی خبر رسانی کے لیے استعمال کیا، اس تحقیقات کو نامور سائنس دانوں انجینیئروں، منتظموں اور ماہرینِ فنونِ لطیفہ کے ہاتھوں سے گزرنے کا موقع ملا۔ اس طرح وہ ہر لحاظ سے کامل و مکمل ہوگئی۔ نیز وہ اطلاعات، تفریح اور اشتہار کے علاوہ نفسیاتی جنگ میں بھی ایک زبردست حربہ بن گئی۔ مادّی جنگ میں بھی وہ ایک قیمتی ہتھیار ہے۔ موجودہ دور کے وسیع لشکروں میں سب سے بڑھ کر اہم اور ضروری چیز یہ ہے کہ اطلاعات جلد سے جلد ہر جگہ پہنچائی جا سکیں اور ظاہر ہے کہ فوجوں کے مختلف حصّے ایک دوسرے سے فاصلے پر ہوتے ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر حصّے کی خبریں سپہ سالار کو وقت پر ملتی رہیں تا کہ وہ ایک حصے کی کیفیت پیش نظر رکھ کر دوسرے حصّوں کو مناسب حکم دے سکے۔ ان اطلاعات کے لیے ریڈیو سے بہتر ذریعہ کونسا ہے! پھر ادھر خبر نشر ہوئی، ادھر جہاں اسے پہنچانا مقصود ہے پہنچ گئی۔ اس میں ایک دقّت تھی اور وہ یہ کہ دشمن کے لیے بھی ان خبروں سے فائدہ اٹھا لینے کے امکانات موجود تھے۔ اس کا علاج یہی تھا کہ ایسی تمام خبریں رمز و کنایے کی شکل میں نشر کی جاتیں، تا کہ اپنوں کے سوا کوئی انھیں سمجھ نہ سکتا، یہی کیا گیا۔ تار کے بغیر اور صرف برقی لہروں کے ذریعے پیغامات بھیجنے کے بے شمار فائدوں کا اندازہ کیجیے۔ اکتشافات کی مہمیں دور دور بھیجی جاتی ہیں۔ ریڈیو کے ذریعے ان کے ساتھ برابر تعلق قائم رکھا جا سکتا ہے۔ اکّا دکّا جہاز سمندر کی وسعت میں کہیں مبتلائے مصیبت ہو جائے یا ایسے کوئی حادثہ پیش آجائے تو دور دور تک فوراً اطلاع پہنچائی جاسکتی ہے اور جگہ جگہ سے امدادی پارٹیاں موقع پر پہنچ سکتی ہیں۔
(ولیم اے ڈیوٹ کی کتاب سو تاریخی واقعات سے لیا گیا جس کا اردو ترجمہ غلام رسول مہر نے کیا)


