ہفتہ, فروری 7, 2026
اشتہار

شہری اور کاروباری افراد کے لئے ‘ای بز پورٹل’ پر رجسٹریشن کا طریقہ کار سامنے آگیا

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور : شہری اور کاروباری افراد کے لئے ای بز پورٹل پر رجسٹریشن کا طریقہ کار سامنے آگیا ، یکم مارچ تک ای بز پورٹل پر 310 سروسز دستیاب ہوں گی۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے ای بز پورٹل (e-Biz Portal) کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے یکم فروری تک 200 سے زائد سرکاری و کاروباری خدمات آن لائن فراہم کرنے کا ہدف مقرر کر لیا ہے۔

اس اقدام کا مقصد شہریوں اور کاروباری طبقے کو دفاتر کے چکر لگانے، طویل قطاروں اور غیر ضروری تاخیر سے نجات دلانا ہے۔

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تیار کردہ ای بز پورٹل کو حکومت کی ایز آف ڈوئنگ بزنس پالیسی کا مرکزی ستون قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق ڈیجیٹل نظام سے نہ صرف وقت اور اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ شفافیت بڑھے گی اور کرپشن کے امکانات بھی کم ہوں گے۔

ای بز پورٹل ایک ون ونڈو ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جہاں شہری اور کاروباری افراد مختلف سرکاری اجازت نامے، رجسٹریشن اور لائسنس ایک ہی جگہ سے حاصل کر سکتے ہیں۔

اس پلیٹ فارم کے ذریعے سرمایہ کاری کی منظوری، تعمیراتی اجازت نامے اور صنعتی لائسنسنگ جیسے عمل کو تیز اور شفاف بنایا گیا ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ پورٹل میں شامل یا زیرِ شمولیت محکموں میں ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ، انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA)، بلڈنگ کنٹرول و ڈیولپمنٹ اتھارٹیز، پروفیشنل ٹیکس و فیسز اور بعض لینڈ یوز اجازت نامے شامل ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم مارچ تک ای بز پورٹل پر 310 سروسز دستیاب ہوں گی، جس سے صوبے کی تقریباً تمام بڑی سرکاری خدمات ایک ہی پلیٹ فارم پر منتقل ہو جائیں گی۔

شہری اور کاروباری افراد ebiz.punjab.gov.pk پر جا کر سی این آئی سی نمبر، ای میل اور بنیادی معلومات کے ذریعے رجسٹریشن کر سکتے ہیں۔

رجسٹریشن کے بعد صارف مطلوبہ سروس منتخب کر کے دستاویزات اپ لوڈ، فیس آن لائن ادا اور درخواست کی پیش رفت ٹریک کر سکتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ای بز پورٹل پنجاب میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس نظام کی کامیابی تمام محکموں کے مکمل انضمام اور عوام کیلئے آسان استعمال پر منحصر ہے۔ اگر یہ منصوبہ مؤثر انداز میں نافذ ہوا تو پنجاب گورننس اور کاروباری سہولت کاری میں نئی مثال قائم کر سکتا ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں