The news is by your side.

گجرات میں مسلمانوں پر ظلم اور تشدد کا ایک اور شرمناک واقعہ (ویڈیو)

گجرات: فاشسٹ مودی کی ریاست گُجرات میں ملسمانوں پر ظلم اور تشدد کا ایک اور شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے، 9 مسلمانوں کو کھمبے سے لگا کر ہندو انتہا پسندوں نے ڈنڈے برسا دیے۔

تفصیلات کے مطابق ریاست گجرات میں مسلمانوں پر تشدد کا ایک اور شرمناک واقعہ پیش آیا ہے، کچھ مسلمانوں کو ایک کھمبے کے ساتھ لگا کر بھارتی پولیس اہل کاروں نے عوام کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا۔

کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جب بھارت میں کسی مسلمان کو ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ بھارتی پولیس بھی مودی کے غنڈوں کے ساتھ مل کر نہتے مسلمانوں پر تشدد کرنے لگی، مسلمانوں کی چیخ و پکار پر ہجوم ہندو انتہا پسند غنڈوں کو تالیا بجا کر داد دیتا رہا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ان افراد نے گجرات کے کھیڑا ضلع میں گجرات کے لوک رقص ’گربا‘ کی ثقافتی تقریب پر مبینہ طور پر پتھراؤ کیا تھا، جنھیں پکڑ کر پولیس نے منگل کو عوام کے سامنے سر عام کوڑے مارے۔ واضح رہے کہ پیر کی رات کھیڑا کے اندھیلہ گاؤں میں نوراتری کی تقریبات کے دوران گربا تقریب میں پتھراؤ کا ایک واقعہ سامنے آیا تھا، جس میں کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے تھے۔

معروف بھارتی دانشور اشوک اسوین نے تشدد کی ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے اس پر رد عمل دیا کہ نیا بھارت قرون وسطیٰ کا ہندوستان ہے، جس میں 9 مسلم مردوں کو سرعام کوڑے مارے جا رہے ہیں، جب کہ مودی کی ریاست گجرات میں بھیڑ قوم پرست نعرے لگا رہی ہے!

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی نے رد عمل میں کہا کہ مسلمانوں کے خلاف ٹارگٹڈ تشدد کو ’انصاف‘ سمجھا جاتا ہے۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ بھارت میں ہر روز بڑے پیمانے پر بنیاد پرستی کے ثبوت سامنے آ رہے ہیں، پولیس والوں کی طرف سے کوڑے مارنا اور پُر ہجوم تشدد عام ہو گیا ہے، یہ ہے مودی کے نئے بھارت کی حقیقت۔

Comments

یہ بھی پڑھیں