site
stats
اہم ترین

گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ،24افراد مجرم قرار

احمد آباد : بھارتی گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کیس میں خصوصی عدالت نے66 افراد میں سے 24 افراد کو مجرم قرار دیدیا جبکہ 36 افراد کو رہا کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گجرات میں دو ہزار دو میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے مقدمے کا فیصلہ سُنادیا گیا، کیس کی سماعت احمد آباد کی خصوصی عدالت میں ہوئی، عدالت نے مسلمانوں کے قتل عام پر چوبیس افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزاسنا دی، چوبیس میں سے گیارہ افراد کو قتل اور تیرہ کو دیگرالزامات پر مجرم قرار دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کیس میں نامزد چھتیس افراد کورہا کردیا گیا،جن میں بی جے پی رہنما بھی شامل ہیں۔

چودہ سال پہلے احمد آباد کی گلبرگ کالونی میں انتہا پسند ہندووں نے انہتر مسلمانوں کو زندہ جلا دیا تھا۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ احسان جعفری بھی جلائےجانے والوں میں شامل تھے۔ ان کی بیوہ نے عدالت سے رجوع کیا تھا، جس پر یہ مقدمہ چلایا گیا۔

یاد رہے کہ گجرات فسادات کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد قتل کر دیے گئے تھے، جن میں سے اکثریت مسلمان شہریوں کی تھی جب کہ احمد آباد میں مسلمانوں کی رہائش گاہوں کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اس وقت ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اور ان پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ گجرات فسادات کے دوران منظم قتل عام روکنے کے لیے انہوں نے کوئی اقدامات نہیں کیے۔

گجرات مسلم کش فسادات کا شمارانیس سوسینتالیس کے بعد بدترین فسادات میں ہوتا ہے لیکن مسلمان آج بھی انصاف سے محروم ہیں، فسادات میں ملوث اکثرمجرموں کورہا کردیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top