کراچی : ایم اے جناح روڈ پر قائم شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں آتشزدگی کے ہولناک واقعے کو ایک ہفتہ گزر گیا لیکن 6 دن تک اس کی آگ ٹھنڈی نہ ہوسکی اور امدادی کارروائیوں میں تاحال مشکلات کا سامنا ہے۔
گل پلازہ کے ملبے سے ملنے والی لاشوں کی حالت اتنی خراب ہے کہ ان کو شناخت کرنا تقریباً ناممکن ہے اور اب تک جاں بحق ہونے والے درجنوں افراد کا کوئی نام و نشان نہیں مل رہا۔
اس سارے معاملے کو سلجھنے میں اور کتنا وقت لگے گا؟ اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں لاشوں کی شناخت کے پروجیکٹ انچارج عامر حسن خان اور سینئر رپورٹر نذیر شاہ نے تفصیلی گفتگو کی۔
عامر حسن خان نے بتایا کہ ابتدا میں صرف 6 لاشوں کی شناخت ممکن ہوسکی تھی اور اب تک 16 افراد کی شناخت ہوگئی ہے اور مجموعی طور 67 افراد کی شناخت ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب ہم کسی ہڈی کو ڈی این اے ٹیسٹ کیلیے اٹھاتے ہیں تو ہاتھ میں ہی پاؤڈر بن جاتی ہے لیکن ہم ہمت نہیں ہار رہے اپنا کام جاری رکھیں گے۔
عامر حسن خان نے ایک دلخراش بات بتائی کہ مرنے والوں کے اہل خانہ ہمیں آکر وہ ویڈیوز دکھا رہے ہیں کہ جس مقام پر کھڑے ہوکر ان کے بیٹے بھائی یا باپ نے آخری ویڈیو کال کی تھی۔ اہل خانہ کا کہنا تھا کہ آپ اس مقام کی مدد سے ہمارے پیاروں کی لاشیں ڈھونڈ کر دے دیں۔
اے آر وائی نیوز کے سینئر رپورٹر نذیر شاہ نے بتایا کہ یہ آگ سانحہ بلدیہ ٹاؤن جیسی آگ سے مماثلت رکھتی ہے کیونکہ شارٹ سرکٹ میں ہوتا یہ ہے کہ دوچار دکانوں میں آگ لگتی ہے جس پر باآسانی قابو پالیا جاتا ہے۔
Gul Plaza News- سانحہ گل پلازہ
ان کا کہنا تھا کہ یہاں یہ سول پیدا ہوتا ہے کہ ایک وقت میں اتنی دکانوں کو کیسے آگ لگ سکتی ہے؟ اس سلسلے میں گزشتہ روز ایک ماہر شخص نے بتایا کہ سینٹرل اے سی کے ڈکس کے راستوں سے آگ پھیلی تاہم یہ بات قابل اطمینان نہیں۔
علاوہ ازیں تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے بتایا ہے کہ گل پلازہ کو 90 فیصد تک کلیئر کردیا گیا ہے تاہم 10 سے 11 افراد مسنگ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ سرچ آپریشن کے دوران عمارت کے ملبے سے 4 ڈی وی آر بھی ملے ہیں جن کی مدد سے سانحے کی وجوہات جاننے میں اہم شواہد ملنے کا امکان ہے۔
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی اور کرائم رپورٹر ہیں، وہ 14 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔


