کراچی : گل پلازہ کی عمارت میں ریسکیو اور سرچ آپریشن مکمل ہوچکا ہے تاہم عمارت کو گرانے کا فیصلہ اسٹرکچرل رپورٹ اور تحقیقات کی روشنی میں کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں گل پلازہ عمارت میں ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ لاہور سے آنے والی تحقیقاتی اور ٹیکنیکل ٹیم نے متاثرہ عمارت کا دورہ کرکے مختلف مقامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے تحقیقاتی، ٹیکنیکل اور فرانزک ٹیم کو عمارت کے مختلف حصوں کا معائنہ کرایا۔
اربن سرچنگ آپریشن ٹیم کی جانب سے ان مقامات پر مارکنگ کردی گئی ہے جہاں سرچنگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے، گل پلازہ کے مختلف حصوں پر ایچ (H) کا نشان لگایا گیا ہے، جس کے بارے میں اربن سرچنگ ٹیم کا کہنا ہے کہ اس نشان کا مطلب خطرے کی نشاندہی ہے اور ان مقامات پر عمارت کے گرنے کا خدشہ موجود ہے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ جلد ہی واقعے سے متعلق کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے اور جو بھی قانونی کارروائی بنتی ہے، وہ کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ واقعے سے متعلق پولیس تحقیقات کررہی ہے اور اس حوالے سے نتائج جلد سامنے لائے جائیں گے۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے مطابق لاشوں کی تلاش کا عمل مکمل ہوچکا ہے، اب عمارت کی اسٹرکچرل جانچ کے لیے متعلقہ ادارے کام کا آغاز کریں گے۔
جاوید نبی کھوسو نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ آج گل پلازہ کی عمارت کو سیل کردیا جائے گا اور آئندہ صرف تحقیقاتی ماہرین کو متاثرہ عمارت میں داخلے کی اجازت ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو اداروں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ عمارت سے مزید کسی لاش کی برآمدگی کا امکان نہیں۔ سرچ آپریشن مکمل ہوچکا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں اب تک 73 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے، جن میں سے 23 افراد کی شناخت مکمل کرلی گئی ہے، جبکہ 17 افراد کی شناخت ڈی این اے کی مدد سے ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر 82 افراد لاپتہ رپورٹ ہوئے تھے، تاہم لاپتہ افراد کی فہرست میں 13 ایسے نام شامل ہیں جن کے ورثا نے تاحال ڈی این اے سیمپل فراہم نہیں کیے۔
جاوید نبی کھوسو کا کہنا تھا کہ بعض خاندانوں کی جانب سے ایک ہی فرد کو مختلف ناموں سے بھی رپورٹ کیا گیا، جس کے باعث فہرست کی تصدیق میں مشکلات پیش آئیں۔
انتظامیہ کے مطابق گل پلازہ عمارت کو سیل کرنے کے بعد گرانے کا فیصلہ آئندہ کے قانونی اور تکنیکی اقدامات اسٹرکچرل رپورٹ اور تحقیقات کی روشنی میں طے کیا جائے گا۔
افضل خان اے آر وائی نیوز سے وابستہ کرائم رپورٹر ہیں


