کراچی : گل پلازہ میں لگے کیمروں کے مانیٹرنگ سسٹم کے ڈی وی آر مل گئے، جس سے پتہ لگایا جائے گا کہ آگ کی ابتدا کہاں سے ہوئی اور ایمرجنسی ایگزٹس کھلے تھے یا بند تھے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں گل پلازہ میں لگے کیمروں کے مانیٹرنگ سسٹم کے ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈرز (ڈی وی آر) مل گئے، ڈی وی آر ملبے سے نکال کر ڈپٹی کمشنر آفس منتقل کر دیے گئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈی وی آر سے گل پلازہ کے کیمروں کی ریکارڈنگ کا جائزہ لیا جائے گا تاہم ڈیجیٹل ویڈیوریکارڈرز کو تحقیقات کیلئے محفوظ کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی وی آر کی فوٹیج سے آگ کی ابتدا معلوم کی جا سکے گی اور یہ بھی واضح ہو گا کہ ایمرجنسی ایگزٹس کھلے تھے یا بند تھے۔
فوٹیج کے ذریعے عمارت میں آخری بار داخل اور نکلنے والے افراد کی نشاندہی بھی ممکن ہو گی۔
اس کے علاوہ، ڈی وی آر میں محفوظ ویڈیوز سے حفاظتی انتظامات اور مانیٹرنگ سسٹم کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے حادثات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
خیال رہے گل پلازہ میں سرچ آپریشن آج بھی جاری ہے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے جاں بحق افراد کی تعداد اکہترہوگئی ہے جبکہ 77 اب بھی لاپتہ ہے۔
چیف فائرآفیسر ہمایوں خان کاکہنا ہےگزشتہ رات بیسمنٹ میں پھرآگ بھڑکی تھی جسے بروقت بجھادیا گیا تھا ، تکنیکی کمیٹی پلازہ کو مخدوش قرار دے کر گرانے کی سفارش کردی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


