کراچی (28 فروری 2026): سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں کمیشن کے روبرو سول ڈیفنس کے ٹیکنیکل انسٹرکٹر مرسلین بیگ نے بیان ریکارڈ کرا دیا۔
سول ڈیفنس افسر نے واقعے کی ذمہ داری فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 پر عائد کر دی، مرسلین بیگ نے کہا گل پلازہ میں آتشزدگی کا واقعہ 10 بجکر 15 منٹ پر رپورٹ ہوا، جب کہ پہلا فائر ٹینڈر 10 بجکر 55 منٹ پر پہنچا۔
افسر نے کہا محکمہ سول ڈیفنس نے 2024 اور 2025 میں گل پلازہ کا فائر آڈٹ اور انسپکشن کیا تھا، انسپکشن میں فائر سیفٹی اقدامات ناکافی پائے گئے تھے، انسپکشن کے بعد انتظامیہ کو ہدایات جاری کی گئی تھیں، ہدایت پر عدم تعمیل کی صورت میں ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں چالان جمع کرایا جاتا ہے۔
مرسلین بیگ نے بتایا کہ متعلقہ عدالت کی عدم دستیابی کے باعث گل پلازہ کیس میں چالان جمع نہیں کرایا جا سکا تھا، عدالتیں جولائی 2025 میں فعال ہوئیں لیکن آگ لگنے تک چالان جمع نہیں ہوا تھا۔
سول ڈیفنس افسر کے مطابق آگ لگتے ہی بجلی فوری طور پر منقطع نہیں کی جانی چاہیے تھی، دستیاب معلومات کی بنیاد پر گل پلازہ میں لگنے والی آگ کلاس بی کی تھی، اور فائر سیفٹی اصولوں کے تحت کلاس سی آگ میں بجلی منقطع کی جاتی ہے، کلاس بی فائر میں فوری طور پر بجلی بند کرنا لازمی نہیں ہوتا۔
افسر نے کہا آگ لگنے کے بعد ایگزٹ دروازے کھلے رہنے چاہیے تھے، بند ماحول میں سات سے دس منٹ کے اندر دھواں شدید ہو جاتا ہے، دروازے بند ہونے، اندھیرے اور دھویں کے باعث لوگوں کا بروقت باہر نکلنا متاثر ہوا۔
مرسلین بیگ کے مطابق محکمہ سول ڈیفنس کو شدید افرادی اور وسائل کی کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث تمام عمارات کا جامع معائنہ ممکن نہیں، سانحے میں متعلقہ اداروں نے آگ بجھانے اور پھنسے افراد کو نکالنے میں مؤثر اقدامات نہیں کیے، فائر ٹیم نے فوم یا کیمیکل استعمال نہیں کیا، ریسکیو ٹولز بھی مؤثر طور پر استعمال نہیں کیے گئے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


