کراچی (22 جنوری 2026): سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد متنازع ہو گئی ہے، ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو اور ایڈیشنل آئی جی کراچی اس سلسلے میں مسلسل مختلف تعداد بتا رہے ہیں۔
ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کے ملبے سے اب تک کتنی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، اس سلسلے میں انتظامیہ کے بیانات میں تضاد پایا جا رہا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف اداروں کا آپس میں کوآرڈنیشن کم زور ہے۔
آج صبح ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی نے بیان میں کہا کہ سانحہ گل پلازہ میں 55 سے 60 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، اور 48 افراد کا پوسٹ مارٹم ہو چکا ہے، جب کہ 14 افراد کی شناخت ہو چکی ہے، اور 8 لاشوں کی ڈی این اے سے شناخت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 86 افراد لاپتا رپورٹ ہوئے تھے۔
ادھر گزشتہ رات ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے بتایا کہ میزنائن فلور سے 30 لاشیں ملی ہیں، جس کے بعد سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 63 ہو گئی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج سے گل پلازہ میں آگ لگنے کی ٹائم لائن تیار ہو گئی
ڈی سی جنوبی نے کہا کہ ملبے کے نیچے ممکنہ لاشوں کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری ہے، تاہم، کراچی میں انتظامیہ تاحال یہ حتمی طور پر واضح نہیں کر سکی ہے کہ گل پلازہ کے ملبے سے کتنے افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔
گل پلازہ ملبے پر ’’ریسکیو‘‘ آپریشن کب تک مکمل ہوگا، اس حوالے سے بھی نبی کھوسو نے کوئی امید افزا بات نہیں کی۔ اگرچہ اس بات پر بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ’’سرچ اینڈ ریکوری‘‘ آپریشن کو ’’ریسکیو‘‘ آپریشن کیوں کہا جا رہا ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


