کراچی (19 جنوری 2026): گل پلازہ کی ناقابل شناخت لاشوں کی پہچان کے لیے لواحقین کو ڈی این اے ٹیسٹ کے سلسلے میں اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
گل پلازہ میں آتشزدگی کے باعث ناقابل شناخت لاشوں کے سلسلے میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے ایک ویڈیو بیان دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے پیاروں کی تلاش میں ہے تو وہ سول اسپتال کے مردہ خانے آ کر اپنی تفصیلات (اینٹی مارٹم ڈیٹا) رجسٹرڈ کروا دے۔
ناقابل شناخت لاشوں کی شناخت کے لیے لواحقین کا ڈی این اے سیمپل حاصل کیا جائے گا، جس کے لیے ضروری ہے کہ لواحقین مرنے والے کے والد، والدہ یا بچے ہوں، بہن بھائی بھی ہو سکتے ہیں لیکن پہلے اِن تین رشتوں کو ترجیح دی جائے گی۔
گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 34 گھنٹے بعد قابو پا لیا گیا، کولنگ کا عمل جاری ہے، چیف آفیسر
ڈاکٹر سمعیہ نے کہا ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے آنے والے قریبی رشتہ داروں سے ڈیٹا، بلیک سیمپل اور بکل سویب لیا جائے گا، سول اسپتال میں لاشیں آنے کا سلسلہ جاری ہے، اور سندھ حکومت نے مردہ خانے کو مزید فعال کر دیا ہے۔
پولیس سرجن کے مطابق لاشوں اور ورثا سے لیے گئے نمونے جامعہ کراچی لیب بھیجے جائیں گے، اورمیچنگ، کراس میچنگ اور پروفائلنگ میں کچھ وقت لگے گا، اس لیے متاثرین سے درخواست ہے کہ صبر کا دامن تھام کر رکھیں، اس عمل کو جامع انداز سے مکمل کیا جا رہا ہے۔
نذیر شاہ کراچی میں اے آر وائی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی اور کرائم رپورٹر ہیں، وہ 14 سال سے زائد عرصے سے اپنے شعبے میں مصروف عمل ہیں اور انویسٹیگیٹو نیوز بریکنگ میں مہارت رکھتے ہیں، اور کراچی کے جرائم اور پولیس نظام سے متعلق گہری سمجھ بوجھ کے حامل ہیں۔


