جمعرات, فروری 12, 2026
اشتہار

گل پلازہ : دنیا بھر میں آتشزدگی کے واقعات پر کیسے قابو پایا جاتا ہے؟ اہم رپورٹ

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : گل پلازہ آتشزدگی جیسے واقعات دنیا بھر میں ہوتے ہیں لیکن ان پر کیسے قابو پایا جاتا ہے، فائر فائںگ سے متعلق عالمی قوانین کیا ہیں اور ان پر کتنا عمل درآمد کیا جاتا ہے؟۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں میزبان ماریہ میمن نے ان قوانین پر تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔

  رائٹرز کی جائزہ رپورٹ

گل پلازہ سے متعلق برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ 1980کے اوائل میں تعمیر کیا گیا تھا، اور اس کی انتظامیہ کئی سال تک بلڈنگ اور فائر سیفٹی کے مقررہ قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی مرتکب رہی۔

رپورٹ کے مطابق دوسال قبل کیے گئے ایک معائنے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ عمارت کی مجموعی صورتحال انتہائی سنگین ہے جس کے بعد باقاعدہ طور پر انتظامیہ کو خبردار کیا گیا تھا۔

ایس بی سی اے کے ریکارڈ کے مطابق گل پلازہ کیخلاف 1992۔ 2015، 2021 میں سیفٹی قوانین کی عدم تعمیل اور غیر مجاز تعمیرات پر عدالتی مقدمات درج کیے گئے تھے۔

جنوری 2024 میں فائر ڈپارٹمنٹ کے فالو اپ آڈٹ کے دوران گل پلازہ کو بھی ان عمارتوں مین شامل کیا گیا جو مقررہ قوانین پر پورا نہیں اترتی تھیں، جبکہ معائنہ کرنے والے افسران نے فائر فائٹنگ آلات تک رسائی ۔ الارم سسٹم اور بجلی کی وائرنگ کی حالت کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔

اس کے علاوہ 2023 کے آخر اور 2024 کے آغاز میں کراچی کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے گل پلازہ کے فائر سیفٹی کے ایک یا ایک سے زائد شعبوں میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

27نومبر 2023 کو فائر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق علاقے میں موجود 40 کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی کے سنگین مسائل بھی سامنے آئے

جن میں آگ بجھانے کے ناکافی آلات، ایمرجنسی اخراج کے راستوں کی بندش، خراب فائر الارم، ناقص ہنگامی روشی اور مکینوں و عملے کیلیے فائر سیفٹی تربیت کی کمی شامل تھی۔

دوسری جانب دنیا بھر میں ایسے واقعات پرکیسے قابو پایا جاتا ہے اس سلسلے میں بزنس ریکارڈر کی ایک رپورٹ کے مطابق رسپانس ٹائم کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، فائر بریگیڈ کی زبان میں رسپانس ٹائم کا مطلب آگ لگنے یا ایمرجنسی کال موصول ہونے سے لے کر پہلی فائر ٹینڈر یا ریسکیو یونٹ کے جائے وقوعہ پر پہنچنے تک کا کل وقت ہوتا ہے۔

امریکا کے شہری علاقوں میں فائر بریگیڈ کا کل رسپانس ٹائم 5 منٹ 20سیکنڈ ہے، برطانیہ میں اوسط ٹائم9 منٹ اور دبئی میں 4 سے 6 منٹ کا وقت مقرر ہے، جو دنیا کے تیز ترین رسپانس ٹائم مین شمار ہوتا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان میں فائر بریگیڈ کیلیے باضابطہ طور پر کوئی طے شدہ رسپانس ٹائم مقرر نہیں ہے، تاہم سندھ اسمبلی میں 19 جنوری کو پیش کردہ قرارداد میں عالمی اصولوں کو اپنانے کی سفارش کی گئی ہے۔

پانی کے چھڑکاؤ کے علاوہ دیگر طریقے

دنیا بھر میں سب سے پہلے آگ کو پانی سے ہی بجھانے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم مختلف حالات ہوں تو دیگر طریقوں کا بھی انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آگ کی دیگر نوعیت میں جیسے بجلی سے لگنے والی آگ پر پانی ڈالنا مزید تباہی کا باعث بنتا ہے، اس لیے شارٹ سرکٹ والی آگ کیلیے متبادل طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔

واٹرمسٹ ٹیکنالوجی

اس طریقے کو استعمال کرتے ہوئے آگ کو طبعی طریقے سے ٹھنڈا کیا جاتا ہے، یہ سسٹم پانی کو انتہائی باریک قطروں میں بدل دیتا ہے جو آگ کو چاروں طرف سے گھیر کر اسے ٹھنڈا کردیتے ہیں۔

گیس سپریشن سسٹم

اس سسٹم سے پورے کمرے میں مخصوص گیسز بھری جاتی ہیں جس کے بعد ہونے والے کیمکل ری ایکشن سے آّگ بجھ جاتی ہے۔ یہ طریقہ کار سرور رومز بنک لاکرز اور ایسے مقامات پر استعمال کیا جاتا ہےجہاں پانی کے باعث دیگر قیمتی اشیاء اور دستاویزات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔

فوم بلنٹنگ

وہ مقامات جہاں پر تیل پٹرول یا کسی کیمیکل کے ذریعے آگ لگی ہو وہاں یہ طریقہ استعمال کیاجاتا ہے جس میں متاثرہ جگہ پر فوم نما کیمیکل کو آگ پر پھینکا جاتا ہے جو آگ کی وجہ بننے والے ایندھن یا کیمیکل کی سطح پر تہہ بنا دیتا ہے۔

ڈرون اور روبوٹک فائر فائٹنگ

زمین کے مقابلے میں بلند عمارتوں یا اونچے مقام پر آگ بجھانا زیادہ مشکل اور پیچیدہ عمل ہے، ترقی یافتہ ممالک میں اب فائر فائٹر ڈٖرونز کا استعمال عام ہے جنہیں اونچے مقامات پر استعمال کیا جاتا ہے۔

کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق شہر کی 266 عمارتوں میں سے صرف 90 میں دھوئیں کا پتہ لگانے والے سینسرز نصب ہیں کو آگ لگنے کی صورت میں الرٹ کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلیے جدید تقاضوں کو اپنانے کی ضرورت ہے، فائر فائٹنگ کے عالمی اصولوں کی عین مطابق فائر بریگیڈ عملے کی تربیت اور سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ضروری ہے۔

گل پلازہ آتشزدگی کا مقدمہ بالآخر درج ہوگیا

گل پلازہ کی خوفناک آتشزدگی کا مقدمہ بالآخر ایک ہفتے بعد نامعلوم افراد کیخلاف درج کرلیا گیا، شاپنگ پلازہ میں لگنے والی آگ کے مقدمے میں غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ایف آئی آر کے متن میں لکھا گیا ہے کہ گل پلازہ کراچی میں حفاظتی انتظامات نہیں کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کئی گیٹ اور لائٹیں بھی بند تھیں جس کے سبب صورتحال مزید خراب ہوئی اور بڑا جانی نقصان ہوا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں