کراچی (18 جنوری 2026): امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ ونڈر بوائے بن کر جو پریزنٹیشن دے رہے تھے ان کی پارٹی نے شہر کا بیڑہ غرق کر دیا، شہر کا جو حال ہے اس کا ذمہ دار کون ہے کس سے سوال کریں؟ پیرس کا دعویٰ کرنے والے کہاں غرق ہوگئے ہیں؟
حافظ نعیم الرحمان پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ گل پلازہ پہنچے جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی پر خوب تنقید کی۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ اس وقت بھی گل پلازہ میں آگ نہیں بجھائی جا سکی ہے، شہر کے لوگ کبھی آگ میں جلتے ہیں اور کبھی گٹر میں گرتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کی پارٹی نے کراچی کا بیڑہ غرق کیا ہوا ہے۔
گل پلازہ آتشزدگی سے متعلق تمام خبریں پڑھنے کیلیے یہاں کلک کریں
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اب بھی لوگ گل پلازہ کے اندر موجود ہیں، شاید یہ لوگوں کے دکھوں کو محسوس نہیں کر سکتے ہیں، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کیوں بنا رکھی ہے؟ قوانین پر کون عمل کروا سکتا ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ فائر فائٹرز کو جوتے پہنا کر یہ سمجھتے ہیں کہ کام پورا ہوگیا، فائر فائٹنگ کیلیے مکمل سامان دینا میئر کی ذمہ داری ہے لیکن یہ سمجھتے ہیں کہ دھوکا دے کر کوئی پذیرائی حاصل کر لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی کی ابتدائی وجہ تاحال معلوم نہ ہو سکی
ان کا کہنا تھا کہ اب اس شہر میں لوگوں کو باہر نکلنا ہوگا، قوانین پر عمل صرف کاغذوں میں ہو رہا ہے، لوگ کو ان کے حقیقی میئر سے محروم کر دیا گیا، لوگ اب اٹھیں گے ان کو ہٹائیں گے، ہم یہاں لوگوں کے ساتھ ہیں، 23 گھنٹے بعد میئر یہاں آیا ہے اور لوگوں سے بات تک نہیں کر سکا۔
’گزشتہ روز سے فائر فائٹرز کام کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے 2 فائر ٹینڈرز یہاں پہنچے تھے۔ ابتدائی 15 منٹ میں بتا دیا گیا تھا کہ آگ شدید نوعیت کی ہے۔ لوگ پریشان ہیں تکلیف میں ہیں۔ مجھے اپنے لوگوں کے حوصلے بلند کرنے ہیں۔ 65 افراد اس آگ لگنے کے واقعے میں لاپتا ہیں۔‘
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


