کراچی: سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے نوجوان عبدالصمد کے والد عبد الرحمان نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ گل پلازہ میں گیس پلانٹ چلتا تھا۔ جو چھت پر رکھا گیا تھا۔ اُس گیس پلانٹ سے متعلق سب جانتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے نوجوان عبدالصمد کے والد عبد الرحمان نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گیس پلانٹ سے متعلق دنیا کو پتہ ہے، انہوں نے کہا کہ بیسمنٹ گیس پلانٹ سے چلتا تھا، اسے چھت پر رکھا گیا تھا۔
نوجوان عبدالصمد کے والد عبد الرحمان نے کہا کہ میرے جوان بیٹے کا انتقال ہوا ہے اس سانحے میں، مجھے لاش بھی باکس میں ڈال کے دی گئی ہے، ہم نے تو اسے دیکھا بھی نہیں بس اللہ کا نام لے کر دفنا دیا۔
View this post on Instagram
دوسری جانب سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ نے جوڈیشل کمیشن کے روبرو بیانات ریکارڈ کرادیے۔
تحقیقات کے سلسلے میں قائم جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل ڈپٹی کمشنر ساؤتھ آفس پہنچے، جہاں جاں بحق افراد کے اہل خانہ نے کمیشن کے روبرو اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جنوبی اور متاثرین کے اہل خانہ بھی موجود تھے، جسٹس آغا فیصل نے سانحے میں جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں، ہم چاہتے تھے کہ کارروائی کا آغاز آپ سے کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ٹریبونل کا مقصد مستقبل میں ایسے واقعات اور جانی نقصان کی روک تھام ہے۔ مالی نقصان کا ازالہ ممکن ہے، مگر جانی نقصان کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔
جوڈیشل کمیشن کے سربراہ نے بتایا کہ لواحقین کے لیے سوالات پر مبنی ایک سوالنامہ تیار کیا گیا ہے اور کمیشن ان کی معاونت چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لواحقین ابھی موجود نہیں، خواہش ہے کہ تمام متاثرہ خاندان اپنے بیانات ریکارڈ کرائیں۔
گل پلازہ سانحہ کے بعد فائر سیفٹی قوانین سخت، نئی شرائط فوری لاگو
جسٹس آغا فیصل نے مزید کہا کہ کمیشن عوام اور حکومت دونوں سے معلومات طلب کر رہا ہے اور ریسکیو ورکرز تک بھی رسائی چاہتا ہے تاکہ تمام دستیاب معلومات کی بنیاد پر جامع رپورٹ تیار کی جا سکے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


